ویب ڈیسک: سید علی شاہ گیلانی (29 ستمبر 1929 – 1 ستمبر 2021) کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے نمایاں رہنما تھے، جنہیں بھارتی حکام کی جانب سے دہائیوں تک گرفتاریوں، قید اور پابندیوں کا سامنا رہا۔
گیلانی نے 1952 میں جماعتِ اسلامی کے پلیٹ فارم سے سیاسی سفر شروع کیا اور ابتدا میں انتخابی سیاست کے ذریعے کشمیر کا مقدمہ پیش کیا۔ بھارتی حکام نے گیلانی کو متعدد مرتبہ گرفتار اور نظر بند کیا، وہ مجموعی طور پر 12 سال سے زائد عرصہ جیل میں رہے؛ 1962 میں پہلی بار کشمیر کا مسئلہ اٹھانے پر گرفتار ہوئے۔ گیلانی نے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کی مخالفت کی اور اسے کشمیری سیاسی اختلاف کو دبانے کے لیے استعمال ہونے والا قانون قرار دیا۔
1987 کے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں گیلانی نے سوپور سے مسلم یونائیٹڈ فرنٹ کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا، انتخابات میں دھاندلی اور مخالف امیدواروں کو دبانے کے الزامات سامنے آئے۔ 1987 کے متنازع انتخابات کشمیر کی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہوئے، جس کے بعد گیلانی نے بھارتی حکمرانی کی مخالفت مزید شدت سے جاری رکھی اور حقِ خودارادیت کا مطالبہ کیا۔
1992 میں گیلانی آل پارٹیز حریت کانفرنس سے وابستہ ہوئے اور کشمیر کی سیاسی جدوجہد کے اہم رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔ 2004 میں گیلانی نے محمد اشرف صحرائی کے ساتھ مل کر تحریکِ حریت قائم کی اور کشمیر کے سیاسی مقدمے کو آگے بڑھایا۔ 2008 سے 2010 کے دوران گیلانی نے بڑے عوامی احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی اور بھارتی فورسز پر شہریوں کے خلاف مبینہ زیادتیوں کی جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ 2010 کے مچھل انکاؤنٹر میں تین شہریوں کی ہلاکت پر گیلانی نے احتساب کا مطالبہ کیا؛ بعد میں بھارتی فوج کے اہلکاروں کو اس مقدمے میں سزا سنائی گئی۔
برہان وانی کی 2016 میں ہلاکت کے بعد گیلانی نے احتجاجی تحریک کی قیادت کی، جبکہ بھارتی حکام نے کرفیو، مواصلاتی پابندیوں اور شہریوں کی نقل و حرکت پر سخت قدغنیں عائد کیں۔ گیلانی نے 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی مسترد کی اور جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی کی مخالفت جاری رکھی۔ بھارتی حکام نے اگست 2019 سے یکم ستمبر 2021 میں وفات تک گیلانی کو مسلسل گھر میں نظر بند رکھا، جس سے ان کی نقل و حرکت اور سیاسی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ گیلانی کی سیاسی زندگی کے دوران ان کے گھر پر متعدد چھاپے، گرفتاریاں اور پوچھ گچھ کی کارروائیاں ہوئیں، جبکہ اہلِ خانہ اور ساتھیوں نے حراستی دباؤ کی شکایات بھی کیں۔
یکم ستمبر 2021 کو گیلانی کی وفات کے بعد بھارتی حکام نے کشمیر میں نقل و حرکت، مواصلات اور عوامی اجتماعات پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ گیلانی کے اہلِ خانہ کے مطابق بھارتی سکیورٹی اہلکاروں نے تدفین کے انتظامات میں مداخلت کی، میت اپنے قبضے میں لی اور انہیں حیدرپورہ، سری نگر میں سخت سکیورٹی کے تحت دفن کیا گیا۔
سید علی شاہ گیلانی نے تقریباً سات دہائیوں پر محیط سیاسی جدوجہد کے دوران گرفتاریوں، قید، نظر بندی اور پابندیوں کے باوجود کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا مطالبہ جاری رکھا۔
کیپشن: سید علی شاہ گیلانی کی برسی — کشمیریوں کی جائز حقِ خودارادیت کی تحریک کی ایک عظیم علامت