امریکا سےبڑھتی کشیدگی: ایران کاجوہری پروگرام پر لچک دکھانے کاعندیہ

امریکا سےبڑھتی کشیدگی: ایران کاجوہری پروگرام پر لچک دکھانے کاعندیہ
کیپشن: امریکا سےبڑھتی کشیدگی: ایران کاجوہری پروگرام پر لچک دکھانے کاعندیہ

ویب ڈیسک: ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں تہران نے ایک اہم سفارتی پیش رفت کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام پر لچک دکھانے کا عندیہ دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران نے اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکا معاشی پابندیاں ختم کر دے اور پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرے تو وہ اپنے ایٹمی پروگرام میں نمایاں رعایت دینے کو تیار ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کہ اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کا تقریباً نصف حصہ بیرون ملک منتقل کر دیا جائے، جبکہ باقی مقدار کو کم درجے تک پتلا کر کے اس کی شدت گھٹا دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران نے ایٹمی سرگرمیوں میں شفافیت بڑھانے کے لیے ایک علاقائی کنسورشیم میں شمولیت کی پیشکش بھی کی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار مکمل ہو چکے ہیں، تاہم پابندیوں کے خاتمے کے طریقہ کار پر اختلافات برقرار ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران نے صرف جوہری معاملے تک ہی نہیں بلکہ معاشی شعبے میں بھی امریکا کو بڑی پیشکش کی ہے۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق اگر معاملات طے پا جاتے ہیں تو امریکی کمپنیوں کو ایران کی تیل اور گیس کی صنعت میں سرمایہ کاری اور بڑے منصوبوں میں شمولیت کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا اور طویل عرصے سے جاری تنازع کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان نئی تجاویز پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ امریکا کو اب بھی خدشہ ہے کہ ایران کے اندر یورینیم افزودگی مستقبل میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا ذریعہ بن سکتی ہے، جس کی ایران مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے حالیہ انٹرویو میں سوال اٹھایا کہ شدید فوجی اور معاشی دباؤ کے باوجود ایران مکمل طور پر پسپائی اختیار کرنے پر کیوں آمادہ نہیں ہوا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ایران مذاکرات کے ذریعے وقت حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنا سکے۔ آنے والے دن اس کشیدہ صورتحال کے مستقبل کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ جمعرات کو جنیوا میں امریکی نمائندے سے ملاقات کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ سفارتی حل اب بھی ممکن ہے اور جوہری معاہدے کے مسودے پر کام جاری ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور حالیہ مذاکرات میں عملی تجاویز زیر غور آئی ہیں۔ ان کے مطابق کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں، تاہم ایران امریکی اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا کے جنگی بحری بیڑے بحیرہ روم اور مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں، جبکہ خطے میں اضافی لڑاکا طیارے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں ممکنہ امریکی کارروائیوں سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

ادھر اقوام متحدہ نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیں۔

عالمی مبصرین کے مطابق صورتحال نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور آئندہ چند روز میں ہونے والے مذاکرات خطے کے امن اور استحکام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Watch Live Public News