ویب ڈیسک: ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں تہران نے ایک اہم سفارتی پیش رفت کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام پر لچک دکھانے کا عندیہ دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران نے اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکا معاشی پابندیاں ختم کر دے اور پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرے تو وہ اپنے ایٹمی پروگرام میں نمایاں رعایت دینے کو تیار ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کہ اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کا تقریباً نصف حصہ بیرون ملک منتقل کر دیا جائے، جبکہ باقی مقدار کو کم درجے تک پتلا کر کے اس کی شدت گھٹا دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران نے ایٹمی سرگرمیوں میں شفافیت بڑھانے کے لیے ایک علاقائی کنسورشیم میں شمولیت کی پیشکش بھی کی ہے۔
Iran is committed to peace and stability in the region. Recent negotiations involved the exchange of practical proposals and yielded encouraging signals. However, we continue to closely monitor U.S. actions and have made all necessary preparations for any potential scenario.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) February 22, 2026
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار مکمل ہو چکے ہیں، تاہم پابندیوں کے خاتمے کے طریقہ کار پر اختلافات برقرار ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران نے صرف جوہری معاملے تک ہی نہیں بلکہ معاشی شعبے میں بھی امریکا کو بڑی پیشکش کی ہے۔
???? Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi on the U.S. Military In The Middle East:
— Derrick Evans (@DerrickEvans4WV) February 23, 2026
“So there is no need for any military buildup. And military buildup cannot help it, and cannot pressurize us.”pic.twitter.com/l2ZnDzBzri
ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق اگر معاملات طے پا جاتے ہیں تو امریکی کمپنیوں کو ایران کی تیل اور گیس کی صنعت میں سرمایہ کاری اور بڑے منصوبوں میں شمولیت کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا اور طویل عرصے سے جاری تنازع کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان نئی تجاویز پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ امریکا کو اب بھی خدشہ ہے کہ ایران کے اندر یورینیم افزودگی مستقبل میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا ذریعہ بن سکتی ہے، جس کی ایران مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے حالیہ انٹرویو میں سوال اٹھایا کہ شدید فوجی اور معاشی دباؤ کے باوجود ایران مکمل طور پر پسپائی اختیار کرنے پر کیوں آمادہ نہیں ہوا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ایران مذاکرات کے ذریعے وقت حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنا سکے۔ آنے والے دن اس کشیدہ صورتحال کے مستقبل کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ جمعرات کو جنیوا میں امریکی نمائندے سے ملاقات کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ سفارتی حل اب بھی ممکن ہے اور جوہری معاہدے کے مسودے پر کام جاری ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور حالیہ مذاکرات میں عملی تجاویز زیر غور آئی ہیں۔ ان کے مطابق کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں، تاہم ایران امریکی اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا کے جنگی بحری بیڑے بحیرہ روم اور مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں، جبکہ خطے میں اضافی لڑاکا طیارے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں ممکنہ امریکی کارروائیوں سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ادھر اقوام متحدہ نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیں۔
عالمی مبصرین کے مطابق صورتحال نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور آئندہ چند روز میں ہونے والے مذاکرات خطے کے امن اور استحکام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔