ویب ڈیسک: نجی ٹی وی چینل کی رمضان نشریات کے دوران ایک کالر کے غیر معمولی سوال نے سب کو حیران کر دیا، جس کی ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تیزی سے پھیل گئی۔
یہ واقعہ قومی ٹیم کے اہم سپر ایٹ مرحلے کے میچ سے ایک روز قبل پیش آیا، جب پاکستان کو عالمی مقابلے میں انگلینڈ کے مدمقابل آنا ہے۔
کالر کا حیران کن سوال
پروگرام کے دوران ایک کالر نے معروف بلے باز بابر اعظم کو ٹیم سے باہر کرنے کے لیے وظیفہ دریافت کیا۔ اس غیر متوقع سوال پر میزبان عالمِ دین نے اس مطالبے کی حمایت سے گریز کیا اور گفتگو کا رخ کرکٹ اور قومی جذبات کی طرف موڑ دیا۔
عالمِ دین نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے اور قومی کھلاڑی عوام کے لیے حوصلے اور تحریک کا ذریعہ بنتے ہیں۔ بعض اوقات شائقین میچ دیکھتے ہوئے اس قدر جذباتی ہو جاتے ہیں کہ ان کی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
کھلاڑیوں کے لیے پیغام
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فتح کو پوری قوم کی کامیابی سمجھا جاتا ہے، اس لیے کھلاڑیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دیں اور مقابلوں کو صرف کھیل نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کے طور پر لیں۔
عالمِ دین نے کسی ملک کا نام لیے بغیر سبز شرٹس کو مشورہ دیا کہ ہمسایہ ملک کے خلاف کھیلتے وقت صبر و تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔
اتحاد کا حوالہ
گفتگو کے دوران انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قوم نے مشکل اوقات میں ہمیشہ اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے ’’بنیان مرصوص‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع پر قومی یکجہتی ہی اصل طاقت ہوتی ہے۔