آبنائے ہرمز پر ایرانی فیس منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے، قطر کا دوٹوک مؤقف

آبنائے ہرمز پر ایرانی فیس منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے، قطر کا دوٹوک مؤقف
کیپشن: آبنائے ہرمز پر ایرانی فیس منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے، قطر کا دوٹوک مؤقف

ویب ڈیسک: قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے کے کسی بھی ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست ہاٹ لائن کا قیام ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، جو غلط فہمیوں، اشتعال انگیزی اور غیر مصدقہ اطلاعات کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بعض عناصر خطے میں کسی بھی ممکنہ مفاہمت یا معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں، اس لیے بحری جہازوں کو موصول ہونے والی کسی بھی دھمکی یا انتباہ کی ایران سے براہِ راست تصدیق ضرور ہونی چاہیے۔

قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس وصول کرنے کا کوئی مجوزہ نظام پیش کرتا ہے تو اسے اپنے مؤقف کے حق میں مضبوط دلائل فراہم کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ قطر ایسی کسی بھی تجویز کا تفصیلی جائزہ ضرور لے گا، تاہم موجودہ صورتحال میں اس منصوبے کی حمایت نہیں کی جائے گی۔

شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا تک قطر کی رسائی کے لیے آبنائے ہرمز ایک نہایت اہم بحری گزرگاہ ہے اور اس اہم راستے پر کسی ایک ملک کا کنٹرول یا بالادستی قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ 30 روز کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بتدریج معمول پر آ جائیں گی اور تجارتی نقل و حمل جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ جائے گی۔

قطری وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ قطر آنے والے چند ہفتوں میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار کو مکمل طور پر معمول پر لانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم اس کا انحصار آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی اور تجارتی سرگرمیوں کی مکمل بحالی پر ہوگا۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا پابندی عالمی تیل اور گیس کی منڈیوں پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Watch Live Public News