ویب ڈیسک: بھارت میں پدرشاہی اور مذہبی تعصب کے امتزاج کے باعث مسلم خواتین کو منظم تشدد کا سامنا ہے، یہ انکشاف Genocide Watch کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہندو قوم پرست نظریات کے زیرِ اثر مسلم خواتین کو اخلاقی، نفسیاتی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ایسے جرائم میں ملوث عناصر اکثر سزا سے بچ جاتے ہیں۔
Justice For All Canada نے بھی اس صورتحال کو ریاستی سطح پر امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی مسلم خواتین کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جس میں جعلی تصاویر، دھمکیاں اور تضحیک آمیز مہمات شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ رجحان وسیع تر نسلی و مذہبی تعصب کا حصہ ہے اور اسے کمیونٹیز کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں Lemkin Institute for Genocide Prevention نے بھی ان خدشات کی تائید کی ہے۔
مزید برآں، تاریخی واقعات جیسے گجرات (2002)، مظفر نگر (2013) اور دہلی (2020) کے فسادات میں بھی مسلم خواتین کو نشانہ بنائے جانے کی مثالیں دی گئی ہیں۔
رپورٹ میں عالمی برادری، خصوصاً کینیڈا، سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس صورتحال پر مؤثر اقدام کرے، جس میں سفارتی سطح پر دباؤ، مذمت اور ذمہ دار عناصر پر پابندیاں شامل ہیں۔