(ویب ڈیسک) پاکستانی سیاسی قیادت نے جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کروانے کی کوشش کو کھلی معاشی تخریب کاری قرار دیدیا۔
وفاقی وزیراطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ کاکہنا ہے کہ ایک جماعت اپنے سیاسی مفاد کی خاطر ملک دشمن عناصر کے ساتھ مل کر سازشوں میں مصروف ہے۔سیاسی مخالفت میں ملک کی تضحیک ناقابل برداشت ہے۔ پی ٹی آئی عارف اجاکیہ کے ساتھ ملکر ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنے چار سالہ اقتدار میں ملک کو نقصان پہنچانے کیلئے ہر حربہ اختیار کیا۔
نبیل گبول :
نبیل گبول نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا بیٹا جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو منسوخ کرنے کے لیے پاکستان مخالف تخریب کاری پی ٹی آئی کے رنگوں میں لپٹی سیدھی غداری ہے۔ یہ پی ٹی آئی کی خود غرض، ریاست مخالف سرکس ہے جو صرف ایک سزا یافتہ شخص کو جیل سے باہر نکالنے کے لیے چٹان سے ٹکرا رہی ہے۔ وہ ایک آدمی کو بچانے کے لیے پاکستان کی معیشت، ملازمتیں اور برآمدات کو جلا دیں گے۔
ڈاکٹر شرمیلا فاروقی:
ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماوں کا GSP+ سٹیٹس سے متعلق ردعمل انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، صرف اس لئے کہ ان کا سیاسی رہنما قید ہے،GSP+ کسی پارٹی یا فرد کے بارے میں نہیں بلکہ لاکھوں مزدوروں کی روزی روٹی سے منسلک ہے،سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کو ہمیشہ پہلے آنا چاہیے۔
سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل:
سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کو معطل کرنے کا ان کا مطالبہ مکمل طور پر غیر ضروری ہے اور سخت ترین مذمت کا مستحق ہے۔نازک حالات میں پاکستان کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچانا غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل قبول ہے۔ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری :
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ عمران خان کے کزن ڈاکٹر عثمان اور بعد زلفی بخاری کی موجودگی میں پاکستان پہ پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ۔جو کہتے ہیں ہم نے پابندی کا نہیں کہا تو انسانی حقوق کا جھوٹا رونا کے کر وہاں چائے پینے گئے تھے۔ پاکستان پر پابندی لگوانے کے لئے پروگرام ملک دشمنوں کے ساتھ رکھا گیا ۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ مری :
پی پی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ عمران خان کے صاحبزادے کا جی ایس پی پلس پر بیان افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے ، جی ایس پی پلس جیسے حساس معاملے پر غیر سنجیدہ گفتگو قومی مفاد کے خلاف ہے ،ایسے بیانات سے پاکستان کی برآمدات اور عالمی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے ۔
حنا پرویز بٹ:
حنا پرویز بٹ نے کہا کہ ہیومن رائٹس کونسل جانے والے بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کو غزہ کے معصوم بچوں کے لئے انصاف کی بات کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔وہ ایسا اس لئے نہیں کریں گے کیونکہ یہ خود اسی صیہونی لابی کا حصہ ہیں، یہودی لابی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔
رانا احسان افضل:
رانا احسان افضل کا کہنا ہے کہ جیسا باپ نے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر کیا ویسا ہی بیٹے پاکستان کے خلاف عمل کر کے دکھا رہے ہیں ، پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کا خواہاں خاندان رہتا ایک ساتھ ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما اختیار ولی :
ن لیگی رہنما اختیار ولی نے کہا کہ عمران نیازی کا خون جنیوا میں بیٹھ کرپاکستان پر حملہ آور ہو ا،بانی پی ٹی آ ئی کے بیٹوں نے “را” اور “موساد” کے ایجنٹوں کے درمیان بیٹھ کر ایسا کیا ،حیرت ہے ابھی تک پی ٹی آئی سے کسی ایک محب وطن نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا، کیا یہ ساری پارٹی ہی وطن دشمنوں کی ہے ؟؟؟۔
رکن صوبائی اسمبلی بلو چستان مینا مجید بلوچ:
مینا مجید بلوچ نے کہا کہ عالمی برادری پاکستان کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈے کو مسترد کردے۔ وطن عزیز کے خلاف ایسا پروپیگنڈا کرنے والے دہشت گرد تنظیموں کے پراکسیز ہی کر سکتے ہیں۔
مرزا اختیار بیگ :
مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ پاکستان نے دہائیوں کی محنت اور اصطلاحات کے بعد جی ایس پی سٹیٹس حاصل کیا ۔ جی ایس پی پلس کا سٹیٹس پاکستان کو ایسے ہی نہیں مل گیا ۔غیر ذمہ دارانہ اور پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ کے لیے بیانات نے لاکھوں غریبوں کی مزدوری کو داؤ پہ لگا دیا ہے۔
محمود مولوی :
محمود مولوی نے کہا کہ قومی مفاد کو ہر قسم کی ذاتیات سے بالاتر ہونا چاہیے، پی ٹی آئی اپنے مفادات اور سیاست کی خاطر ملک اور عوام کی مفادات سے نہ کھیلے،عالمی فورمز پر جی ایس پی سٹیٹس کے خلاف آواز اٹھائی جائے تو یہ محض سیاست نہیں بلکہ قومی مفاد کے خلاف ایک خطرناک رجحان بن جاتا ہے۔