ویب ڈیسک: پاکستان کا نام پوری دنیا میں بلند کرنے والے پیرس اولمپکس میں جیولن تھرو کے چیمپئن ارشدندیم کے ساتھ ملک کی نام نہاد شخصیات نے ہاتھ کرگئیں، ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں جیولن تھرو کے مقابلوں میں نیا اولمپک ریکارڈ قائم کرتے ہوئے نہ صرف طلائی تمغہ حاصل کیا بلکہ پاکستانی قوم کا ان عالمی کھیلوں میں میڈل کے حصول کا 3 دہائیوں سے جاری انتظار بھی ختم کیا تھا۔
ارشد نے یہ کارنامہ 92.97 میٹر فاصلے پر نیزہ پھینک کر سرانجام دیا جو ان کے کریئر کی بہترین کارکردگی بھی ہے۔ یہ ارشد کے کریئر کی سب سے بڑی جبکہ دنیا میں اب تک پھینکی جانے والی چھٹی سب سے طویل جیولن تھرو تھی۔ارشد نے اس مقابلے میں اپنی آخری تھرو بھی 90 میٹر سے زیادہ فاصلے پر پھینکی تھی۔
ارشد ندیم نے جیولن تھرو میں گولڈ میڈل حاصل کیا تو ہر طرف سے انعامات کی برسات ہونے لگی۔ حکومت سمیت پاکستان کے بڑے بزنس مین، سنگرز اور عام عوام نے بھی دل کھول کر انعامات کا اعلان کیا۔
ارشد ندیم کو مل کر میڈیا کے ذریعے انعامات دینے کا وعدہ کرنے والوں نے کیا ارشد ندیم کو انعامات دیے ہیں اس پر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے انعامات ارشد ندیم کو مل گئے ہیں مگر پاکستانی بزنس مین حلقوں نے ارشد ندیم کو یہاں بھی چونا لگا دیا۔
متعدد ٹی وی چینلز کے مالکان کی جانب سے پلاٹس دینے کا اعلان کیا گیا مگر سب اپنے کئے وعدوں سے مکر گئے، قومی ہیرو کے ساتھ میڈیا کے سامنے اپنی تشہیر کروانے کے بعد سب منظر سے غائب ہوگئے۔
پلاٹس کے علاوہ کیش پرائز کے بھی متعدد اعلانات کئے گئے مگر اپنی بزنس مین کمیونٹی اور کچھ سیاسی شخصیات اپنی اپنی پبلسٹی کے لئے ارشد ندیم کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز بنانے تک محدود رہے اور جو انعامات دینے کے اعلانات کئے سب ہوا ہوگئے۔
گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کے قریبی ذرائع کے مطابق جن بزنس مینوں نے انعامات دینے کا اعلان کیا انہوں نے قومی ہیرو کو اپنی کاروباری اور ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کیا اور بعد میں کبھی ان سے رابطہ تک نہیں کیا۔
آرمی چیف، صدر مملکت، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ سندھ، گورنر سندھ سمیت دیگر حکومتی عہدایدروں کی جانب سے جو اعلان کیے گئے وہ ارشد ندیم کو کچھ دنوں بعد ہی دے دیے گئے تھے۔