ویب ڈیسک: واشنگٹن میں ایک حالیہ تقریب کے دوران ہونے والے حملے میں اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ محفوظ رہے، تاہم اس واقعے نے یہ اہم سوال اٹھا دیا ہے کہ اگر خدانخواستہ صدر یا ان کی اعلیٰ قیادت کو کچھ ہو جائے تو ملک کا نظام کون سنبھالے گا۔
امریکی قانون میں اقتدار کی منتقلی کے لیے ایک واضح ترتیب موجود ہے، جس کے تحت نائب صدر سے لے کر کابینہ کے ارکان تک مختلف شخصیات باری باری ذمہ داریاں سنبھال سکتی ہیں۔
امریکی آئین کی 25ویں ترمیم کے مطابق اگر صدر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہ رہیں یا ان کا انتقال ہو جائے تو نائب صدر جے ڈی وینس فوری طور پر صدارت سنبھال لیں گے اور باقی مدت پوری کریں گے، ساتھ ہی نئے نائب صدر کا تقرر بھی کریں گے۔
اگر صدر اور نائب صدر دونوں دستیاب نہ ہوں تو ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن کو اگلا صدر بنایا جاتا ہے۔ اس کے بعد سینیٹ کے معمر رکن چک گراسلے کا نمبر آتا ہے۔
کابینہ کے دیگر ارکان کی ترتیب ان کے محکموں کی قدامت کے مطابق طے ہوتی ہے۔ اس فہرست میں وزیر خارجہ مارکو روبیو سرفہرست ہیں، جن کے بعد وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ شامل ہیں۔
تاہم اس فہرست میں شامل ہونے کے لیے چند آئینی شرائط لازمی ہیں، جن میں کم از کم 35 سال عمر، پیدائشی امریکی شہریت، اور کم از کم 14 برس امریکا میں رہائش شامل ہے، جبکہ امیدوار کا سینیٹ سے منظور شدہ ہونا بھی ضروری ہے۔
موجودہ صورتحال میں اٹارنی جنرل کے عہدے سے متعلق ٹوڈ بلانچ کے بارے میں کچھ ابہام پایا جاتا ہے، کیونکہ وہ ابھی مکمل طور پر سینیٹ سے منظور شدہ وزیر کے طور پر سامنے نہیں آئے۔
امریکا میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ’نامزد محفوظ شخصیت‘ کی روایت بھی موجود ہے، جس کے تحت کسی اہم موقع پر ایک اعلیٰ عہدیدار کو جان بوجھ کر الگ مقام پر رکھا جاتا ہے تاکہ کسی بڑے حادثے کی صورت میں قیادت کا تسلسل برقرار رہے۔
صدر ٹرمپ نے 2025 اور 2026 میں اس مقصد کے لیے ڈوگ کولنز کو منتخب کیا تھا۔
حالیہ تقریب میں اگرچہ جے ڈی وینس، مائیک جانسن اور مارکو روبیو سمیت اہم شخصیات موجود تھیں، تاہم چک گراسلے کی غیر موجودگی نے اس امر کو یقینی بنایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اقتدار کی منتقلی کے لیے ایک اہم شخصیت محفوظ رہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام اس لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ دنیا کی بڑی طاقت کا حکومتی ڈھانچہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال میں قیادت کے بحران کا شکار نہ ہو۔