ویب ڈیسک: برطانیہ کے سابق وزیرِاعظم بورس جانسن روسی ڈرون حملے میں بال بال بچ گئے۔ حملہ یوکرین سے پولینڈ جانے والی ایک مسافر ٹرین کے روٹ پر کیا گیا، تاہم جانسن کی ٹرین کچھ دیر قبل وہاں سے گزر چکی تھی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق بورس جانسن سمیت متعدد اعلیٰ یورپی حکام کیف سے پولینڈ جانے والی ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ حملے کا مقام پولینڈ کی سرحد سے تقریباً دو کلومیٹر دور بتایا گیا ہے۔
یوکرینی ریلوے حکام کے مطابق پولینڈ کی سرحد کے قریب یاہودن اسٹیشن پر ایک مسافر ٹرین کو ڈرون نے نشانہ بنایا۔ مسلسل روسی حملوں کے خدشے کے باعث جانسن کی ٹرین کو مقررہ وقت سے پہلے روانہ کر دیا گیا تھا۔
یوکرینی ریلوے کمپنی یوکرزالیِزنیتسیا کے مطابق ممکن ہے ڈرون کا ہدف وہی ٹرین ہو جس میں بورس جانسن سفر کر رہے تھے۔ ٹرین میں 206 افراد سوار تھے۔
بورس جانسن نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کا شہری ریلوے نظام بھی روسی حملوں سے محفوظ نہیں رہا۔ ان کے مطابق یوکرینی عوام روزانہ ایسے حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جانسن کے ساتھ برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول، سویڈن کے سابق وزیراعظم کارل بلڈٹ، جرمن حکام اور متعدد یورپی سفارت کار بھی سفر کر رہے تھے۔ یہ وفد روس کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات پر بات چیت کے لیے کیف میں موجود تھا۔
یوکرین کے وزیر خارجہ آندرے سیبیہا نے حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ روسی حملے نیٹو اور یورپی یونین کے رکن ملک پولینڈ کی سرحد کے مزید قریب پہنچ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ فروری 2022 سے جاری ہے، جس میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے علاوہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔