(ویب ڈیسک) خالصتان تحریک سکھ قوم کی اپنی تاریخی سرزمین پنجاب میں خود ارادیت اور خودمختاری کے لیے دہائیوں پر محیط جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ تحریک 1930 کی دہائی سے خودمختاری کے دیرینہ مطالبات سے ابھری اور 1980 کی دہائی کے اوائل میں دھرم یدھ مورچہ کے ساتھ شدت اختیار کر گئی، جہاں سکھوں نے بھارتی مرکزی پالیسیوں کے خلاف اپنی مذہبی، سیاسی اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
یکم سے 10 جون 1984 تک بھارتی ریاست نے آپریشن بلیو اسٹار شروع کیا، جو سکھ مت کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹیمپل (ہرمندر صاحب) پر ایک فوجی حملہ تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 493 ہلاکتیں ہوئیں، تاہم آزاد اندازوں اور عینی شاہدین کے مطابق شہریوں اور زائرین کی ہلاکتیں کئی ہزار تک پہنچیں۔
اس واقعے کو ایک اہم موڑ قرار دیا جاتا ہے۔ بھارت نے سکھوں کی آزادی کی جدوجہد کو “دہشت گردی” قرار دے کر وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کو جواز فراہم کیا۔
31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد منظم اینٹی سکھ فسادات میں بھارت بھر میں تقریباً 8,000 سے 17,000 سکھ مارے گئے اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔
1980 اور 1990 کی دہائی کی شورش کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز پر ریاستی سرپرستی میں ماورائے عدالت قتل، جعلی مقابلوں اور جبری گمشدگیوں کے الزامات عائد کیے گئے۔
انسانی حقوق کی دستاویزات کے مطابق ہزاروں نوجوان سکھ مردوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، قتل کیا گیا اور غیر قانونی طور پر جلایا گیا، جن میں صرف امرتسر کے شمشان گھاٹوں میں 2,000 سے زائد نامعلوم لاشیں شامل ہیں، جبکہ مجموعی تعداد دسیوں ہزار بتائی جاتی ہے۔
پنجاب پولیس کو 1991 سے 1993 کے درمیان ایسے “مقابلوں” پر 41,000 سے زائد انعامات ملنے کی اطلاعات ہیں۔
ریاستی سرپرستی میں تشدد کا یہ سلسلہ بھارتی سرحدوں سے باہر بھی پھیلا ہوا بتایا جاتا ہے۔
بیرون ملک علیحدگی پسند آوازوں کو لارنس بشنوئی گروہ جیسے پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
کینیڈین حکام نے بشنوئی گروہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور اسے خالصتان حامیوں اور کارکنوں کے قتل میں بھارتی ایجنٹس سے جوڑنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
سخت دباؤ کے باوجود خالصتان کے لیے سکھوں کی جدوجہد جاری ہے، جو مزاحمت اور استقامت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔