(ویب ڈیسک )بھارتی فوج کے سکھوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کو 42 سال مکمل ہوگئے۔
کے ایم ایس کے مطابق 42 سال قبل آپریشن بلیو سٹار کے نام سے سکھوں پر قیامت ڈھا دی گئی- یکم جون 1984 کو بھارتی فوج نے سکھوں کے مقدس مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل پر حملہ کر دیا –سکھ مذہب کے مقدس ترین مقام پر وزیراعظم اندرا گاندھی نے ریاستی دہشت گردی کی خوفناک مثال قائم کی-
کشمیر میڈٰیا سروس کے مطابق بھارتی افواج جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور ان کے ساتھیوں کو نکالنے کے لیے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں داخل ہوئیں۔
سکھوں کے مقدس ترین مقام کی بے حرمتی کی تاریخ رقم کی گئی، بھارتی فوج کے حملے کا مقصد بھنڈرانوالہ اور سکھ خود ارادیت کی تحریک کو دبانا تھا۔ علیحدہ سکھ وطن کا مطالبہ بھارتی حکومت کی سکھوں سے مبینہ وعدہ خلافیوں سے پیدا ہوا۔
آنندپور صاحب قرارداد میں وفاقی خودمختاری کے وعدے بار بار پورے نہیں کیے گئے۔ جون 1984 میں سیاسی تعطل کے بعد نئی دہلی نے گولڈن ٹیمپل پر فوجی کارروائی شروع کردی۔
بھارتی فوج آپریشن سے قبل برطانیہ سے عسکری مشاورت طلب کی تھی۔ برطانیہ نے طاقت کو آخری حل قرار دیا، مگر بھارت نے عسکری راستہ اپنایا۔
گولڈن ٹیمپل کمپلیکس میں بھنڈرانوالہ اور حریت پسند سکھ بہادری اور مزاحمت کی تاریخ بن گئے۔ آزادانہ رپورٹس کے مطابق 10,000 کے قریب نہتے سکھ یاتری، مرد، خواتین اور بچے مارے گئے۔
کے ایم ایس کے مطابق سکھ مورخ ہرجندر سنگھ دلگیر کے مطابق یہ کارروائی سکھوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ سکھ فوجیوں کو پہلی دفعہ سکھوں کے قتل عام کے لئے استعمال کیا گیا ۔
بھارتی مؤرخین نے آپریشن بلیو سٹار کو بھارتی فوج کی ناقص منصوبہ بندی اور بڑی ناکامی قرار دیا تھا۔ آپریشن بلیو سٹار نے سکھ قوم کو جو زخم دیے وہ انمٹ ہیں ۔ آپریشن بلیو سٹار نے بھارت کی سیکولر شناخت ہمیشہ کے لیے ختم کر دی۔