بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور پارٹی تحریک اہم، سازشوں کا حساب بعد میں ہوگا: علی امین گنڈاپور

بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور پارٹی تحریک اہم، سازشوں کا حساب بعد میں ہوگا: علی امین گنڈاپور
کیپشن: بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور پارٹی تحریک اہم، سازشوں کا حساب بعد میں ہوگا: علی امین گنڈاپور

ویب ڈیسک: سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا انہیں عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد حکومت سے متعلق آخری پیغام یہ تھا کہ حکومت جائے یا گورنر راج لگے، ڈرون حملے نہیں ہونے چاہئیں۔

ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے پارٹی رہنما سہیل آفریدی سے متعلق کہا کہ وہ ان کے چھوٹے بھائی کی طرح ہیں اور انہیں پارٹی ٹکٹ دلوانے میں بھی انہوں نے کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق پارلیمانی بورڈ میں سہیل آفریدی کو ٹکٹ نہیں مل رہا تھا، تاہم انہوں نے اصرار کرکے انہیں ٹکٹ دلوایا اور بعد ازاں کابینہ میں بھی شامل کیا۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کو جن رہنماؤں نے قیادت کرنی ہے، یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ انہیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ کہا گیا کہ علی امین گنڈاپور کو منانے کے لیے جایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپنے خلاف مبینہ سازشوں اور غلط رویہ اختیار کرنے والے افراد کے بارے میں انہوں نے اس وقت کچھ نہیں کہا، کیونکہ ان کے لیے بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور پارٹی کی تحریک زیادہ اہم ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے بعد وہ اپنے خلاف کی جانے والی مبینہ سازشوں کا حساب لیں گے۔

سابق وزیراعلیٰ نے لاہور جلسے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جلسے کی اجازت دباؤ کے تحت دی گئی تاکہ وہ کارکنوں کا بڑا قافلہ لے کر لاہور نہ پہنچیں۔ ان کے بقول، انہوں نے دو دن میں لاہور کا رخ کیا اور شام 5 بج کر 5 منٹ پر شاہدرہ پہنچ گئے تھے۔

علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا کہ لاہور پہنچنے کے بعد وہ خود کنٹینرز ہٹانے میں مصروف تھے، تاہم انہیں کہا گیا کہ وہ جان بوجھ کر تاخیر سے پہنچے۔ ان کے مطابق انہیں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کے لیے بھی کہا گیا تھا اور اس کے لیے صرف دو دن کا وقت تھا۔

انہوں نے بتایا کہ 18 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد جب وہ راولپنڈی کے قریب پہنچے تو پارٹی کی جانب سے پیغام ملا کہ اب جلسہ نہیں کرنا۔

Watch Live Public News