امریکا اور یورپی یونین میں تاریخی تجارتی معاہدہ طے پا گیا

امریکا اور یورپی یونین میں تاریخی تجارتی معاہدہ طے پا گیا
کیپشن: امریکا اور یورپی یونین میں تاریخی تجارتی معاہدہ طے پا گیا

ویب ڈیسک: امریکا اور یورپی یونین نے مہینوں سے جاری تجارتی کشیدگی ختم کرتے ہوئے ایک بڑے معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس پیش رفت کا اعلان اس وقت کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیئن نے اسکاٹ لینڈ میں ملاقات کی۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت امریکہ تمام یورپی مصنوعات پر 15 فیصد درآمدی ٹیکس لگائے گا، جو اس 30 فیصد شرح سے نصف ہے جس کا صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا۔ اس کے بدلے یورپی یونین کچھ امریکی مصنوعات پر محصولات صفر کر دے گی۔

ٹرمپ نے اسے "سب کے لیے ایک اچھا معاہدہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں اتحادیوں کو مزید قریب لائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یورپی یونین اگلے تین برسوں میں امریکی توانائی اور دفاعی صنعت میں 1.3 کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کرے گی۔

ارسلہ فان ڈیر لیئن نے بھی اسے "بڑا معاہدہ" قرار دیا اور کہا کہ یہ دونوں فریقین کو استحکام دے گا جو دنیا کی مجموعی تجارت کا تقریباً ایک تہائی ہیں۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ یہ "فریم ورک معاہدہ" ہے، جس کی تکنیکی تفصیلات آنے والے ہفتوں میں طے ہوں گی۔

معاہدے کے تحت کچھ اشیاء جیسے ہوائی جہاز کے پرزے، بعض کیمیکل اور زرعی مصنوعات پر کوئی محصول عائد نہیں ہو گا۔ اگرچہ اسٹیل اور ایلومینیم پر پہلے سے موجود 50 فیصد امریکی ٹیکس برقرار رہے گا۔

فرانس، نیدرلینڈز اور دیگر یورپی ممالک نے خدشات کا اظہار کیا ہے، خصوصاً شراب اور بیئر کی صنعتوں پر ممکنہ محصولات کے حوالے سے۔ فرانس کے یورپی امور کے وزیر بینجمن ہداد نے کہا کہ معاہدہ کچھ شعبوں کے لیے فائدہ مند ضرور ہے، مگر یہ توازن سے خالی ہے۔

یہ معاہدہ یورپی یونین کے سفیروں کی منظوری سے مشروط ہے، جو جلد اس پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اس ڈیل کو صدر ٹرمپ کی بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے امریکہ کو نہ صرف ممکنہ 90 ارب ڈالر کی ٹیکس آمدنی ہو گی، بلکہ توانائی اور دفاعی شعبے میں اربوں کی سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔

دوسری جانب یورپی رہنماؤں نے محتاط ردِعمل دیا ہے۔ آئرش وزیر اعظم میہول مارٹن نے کہا کہ اگرچہ معاہدے سے تصادم ٹل گیا، مگر تجارت اب پہلے سے زیادہ مہنگی اور پیچیدہ ہو گی۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے مستحکم تجارتی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ وہ تفصیلات دیکھنے کے بعد حتمی رائے دیں گی۔

معاہدے سے قبل صدر ٹرمپ نے اسکاٹ لینڈ میں اپنے گالف کورس پر 18 ہول مکمل کیے اور اپنے بیٹے ایرک سمیت اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارا۔ وہ جلد ہی ابردین جائیں گے جہاں ان کے خاندان کا ایک اور گالف کورس موجود ہے، اور تیسرا کورس آئندہ ماہ کھولا جا رہا ہے۔

Watch Live Public News