ویب ڈیسک: مشہور و معروف بھارتی ٹی وی ڈرامہ سیریل ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ کی اداکارہ جیا بھٹاچاریہ نے دل دہلا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ میری ماں نے پیسوں کے لیے ناچنے پر مجبور کیا، ہنٹر، جوتوں اور چمٹے سے مارا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ جیا بھٹاچاریہ نے اپنی زندگی کے ایسے تلخ حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جنہیں سن کر مداحوں کے دل دہل گئے، اداکارہ نے انکشاف کیا ہے کہ بچپن میں ان کی اپنی والدہ بدترین تشدد کا نشانہ بناتی تھیں اور پیسوں کی خاطر انہیں زبردستی شوبز میں دھکیلا گیا۔
حالیہ انٹرویو میں اپنے دردناک ماضی کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میرے والدین کی آپس میں نہیں بنتی تھی اور اس تلخی کا سارا نزلہ مجھ پر گرتا تھا۔
جیا نے بتایا کہ میری والدہ خوش نہیں تھیں، ان کے خواب ادھورے تھے جس کی وجہ سے وہ مجھے بھی ادھوری محبت دیتی تھیں، مجھے ہنٹر، روٹی پکانے والے بیلن، چمٹے اور جوتوں سے مارا جاتا تھا، میں بہت زیادہ پٹی ہوں۔
اداکارہ نے انکشاف کیا کہ میں کبھی اداکاری نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن والدین نے زبردستی کیمرے کے سامنے لا کھڑا کیا، مجھے اداکاری کی طرف دھکیلا گیا، پیسوں کے لیے ناچنے اور یہاں تک کہ مردانہ کردار نبھانے پر بھی مجبور کیا گیا۔
جیا بھٹاچاریہ نے بتایا کہ نویں جماعت میں جب والد ریٹائر ہوئے تو جہیز کی فکر میں ماں نے گھر میں طوفان کھڑا کر دیا جس پر میں گھر سے بھاگ کر ہریدوار چلی گئی، جب میری والدہ اسپتال میں تھیں تو میں نے اپنی ساری جمع پونجی ان کے علاج پر لگا دی حالانکہ میں ان سے نفرت کرتی تھی اور یہ بات میں نے ان کے منہ پر کہی تھی، میری والدہ میرے ہاتھ سے کھانا نہیں کھاتی تھیں کیونکہ انہیں بیٹی نہیں بیٹا چاہیے تھا۔
اداکارہ کا کہنا ہے کہ 2000ء میں ایکتا کپور کے ڈرامے ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ نے میری زندگی بدل دی، لیکن مجھے کبھی وہ عزت نہیں ملی جس کی میں حق دار تھی۔