ویب ڈیسک: ہالی ووڈ اداکارہ سڈنی سوینی کی اسپورٹس پریڈکشن کمپنی نووگ کے لیے نئی اشتہاری مہم تنقید کی زد میں آگئی، جس پر متعدد خواتین کھلاڑیوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔
9 ستمبر کو شروع ہونے والی ’’جسٹ اسپورٹس‘‘ مہم میں سڈنی سوینی کو باسکٹ بال، فٹبال اور ٹینس سمیت مختلف کھیلوں کے سامان سے جسم ڈھانپے دکھایا گیا ہے۔ خواتین ایتھلیٹس نے اس انداز کو کھیلوں میں خواتین کی غیر ضروری جنسی نمائندگی قرار دیا۔
چار بار کی اولمپک گولڈ میڈلسٹ تیراک آریانے ٹِٹس سمیت متعدد کھلاڑیوں نے سوال اٹھایا کہ کھیلوں کی مصنوعات کی تشہیر کے لیے خواتین کے جسم کو جنسی انداز میں پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔
سڈنی سوینی نے مہم پر معذرت نہیں کی اور ماضی میں ESPN Body Issue کے لیے سرینا ولیمز اور رونڈا روزی سمیت ایتھلیٹس کی تصاویر کا حوالہ دیا۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ان تصاویر میں کھلاڑیوں کے جسم کو ان کی کھیلوں کی کامیابی کے تناظر میں پیش کیا گیا تھا، جبکہ نووگ کی مہم ایک تجارتی اسپورٹس پریڈکشن پروڈکٹ کی تشہیر ہے۔
سڈنی سوینی نووگ کی صرف برانڈ ایمبیسیڈر نہیں بلکہ کمپنی کی اسٹریٹجک پارٹنر اور ایکویٹی ہولڈر بھی ہیں۔ کمپنی کے مطابق شراکت داری کی تجویز خود سڈنی سوینی نے دی تھی۔
ادھر سوشل میڈیا ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق مہم کے بعد سڈنی سوینی کے انسٹاگرام فالوورز میں 2 لاکھ سے زائد کمی رپورٹ ہوئی ہے، تاہم ٹریکنگ سروسز یہ ثابت نہیں کرتیں کہ تمام ان فالو اسی اشتہار کے ردعمل میں ہوئے۔
سڈنی سوینی اس سے قبل 2025 میں امریکن ایگل کی ’’Sydney Sweeney Has Great Jeans‘‘ مہم پر بھی تنقید کا سامنا کرچکی ہیں۔ تاہم کمپنی نے مہم کے بعد صارفین اور برانڈ آگاہی میں اضافے کی اطلاع دی تھی۔