ویب ڈیسک: چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے حالیہ سیلاب کے تناظر میں اہم فیصلہ کرتے ہوئے آبی گزرگاہوں پر قائم غیر قانونی تعمیرات کو فوری طور پر ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دریاؤں اور ندی نالوں کے اندر بننے والی غیرقانونی تعمیرات نہ صرف قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ ڈالتی ہیں بلکہ سیلاب کی شدت کو بھی کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ ایسی تعمیرات کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور جو لوگ متاثر ہوں گے انہیں کسی قسم کا معاوضہ بھی فراہم نہیں کیا جائے گا۔
چیف سیکرٹری پنجاب نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں حالیہ بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے حکومت کو بڑے پیمانے پر چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم انتظامیہ کی بروقت حکمت عملی اور ریسکیو اداروں کی غیر معمولی تیاریوں کے باعث بڑے پیمانے پر نقصان سے بچا لیا گیا۔
اسی حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ ایک ہی وقت میں بارش کے تین سے چار اسپیلز اور بھارت کی طرف سے پانی کا اچانک اخراج پنجاب کے لیے سنگین صورتحال لے کر آیا۔ انہوں نے کہا کہ بروقت ارلی وارننگ سسٹم اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی محفوظ منتقلی کے ذریعے ہزاروں جانیں بچائی گئیں۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ان کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران پہلا بڑا سیلاب ہے اور آئندہ ایک سال میں ایسے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے کہ اگر اگلے برس دوبارہ سیلاب آئے تو تباہی کی شدت اس قدر نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کو ہدایت دی ہے کہ مستقبل کے لیے مربوط پلان ترتیب دیا جائے، جس میں نئے ڈیمز اور ریزروائرز کی تعمیر بھی شامل ہوگی تاکہ پانی ذخیرہ کیا جا سکے اور قدرتی آفات کے اثرات کم ہوں۔