ویب ڈیسک: سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ انتہائی مضبوط قانونی معاہدہ ہے، جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔
خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ بھارت اپریل 2025 سے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، کبھی پیشگی اطلاع کے بغیر پانی چھوڑ کر سیلابی صورتحال پیدا کرتا ہے اور کبھی پانی روک کر زرعی و انسانی بحران پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت بھی واضح کر چکی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، جبکہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت پانی کو سیاسی یا تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ پانی کو ہتھیار بنانے کے اس رجحان کا فوری نوٹس لے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی فورم پر آواز اٹھاتا رہے گا۔