ویب ڈیسک: ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم کسی بھی جارحیت کے سامنے خاموش نہیں بیٹھے گا اور حملے کی صورت میں جارحین کو فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق مسعود پزشکیان نے یہ بیان ایران کے لارک جزیرے پر امریکی حملے کے بعد دیا۔ کرغزستان میں ہونے والے ایک بین الاقوامی سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ایران مستقبل میں ہونے والے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو جارحین کو فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں، بلکہ اس کے نتیجے میں تمام ممالک کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی ترجیح خطے میں امن و استحکام کا قیام ہے اور عالمی امن و استحکام کا آغاز بھی خطے ہی سے ہونا چاہیے۔
ایرانی صدر شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک روانہ ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب پابندیوں کے اثرات سے متعلق سوال پر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایرانی برآمدات میں 25 سے 35 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔