اسپین کا امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کا اعلان

اسپین کا امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کا اعلان
کیپشن: اسپین کا امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کا اعلان

ویب ڈیسک: اسپین کے وزیراعظم نے ملک میں مقیم غیر دستاویزی تارکینِ وطن کے لیے ایک نئی اور جامع امیگریشن پالیسی متعارف کرا دی ہے، جس کے تحت بڑی تعداد میں افراد کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نئی امیگریشن پالیسی کے تحت تقریباً پانچ لاکھ غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو قانونی درجہ دیا جائے گا، تاہم اس فیصلے پر دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

اسپین کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ان غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دی جائے گی جو سن 2026 سے کم از کم پانچ ماہ قبل اسپین میں مقیم ہوں گے اور جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہوگا۔

حکومتی اعلان میں بتایا گیا ہے کہ اہل قرار پانے والے افراد کو ایک سال کے لیے رہائشی اجازت نامہ اور ورک پرمٹ جاری کیا جائے گا، جس کے تحت وہ اسپین میں قانونی طور پر قیام اور ملازمت کے مجاز ہوں گے۔

ہسپانوی وزیرِ مائیگریشن کے مطابق درخواستیں جمع کرانے کا عمل اپریل سے شروع کیا جائے گا۔ قانونی حیثیت حاصل کرنے والے تارکینِ وطن اسپین کے کسی بھی حصے میں کام کر سکیں گے، بشرطیکہ وہ کم از کم پانچ ماہ سے ملک میں مقیم ہوں۔

وزیرِ مائیگریشن الماسیز کا کہنا ہے کہ درخواست گزاروں کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہونا لازمی ہوگا، جبکہ یہ فیصلہ ان تارکینِ وطن کے بچوں پر بھی لاگو ہوگا جو پہلے ہی اسپین میں رہائش پذیر ہیں۔

Watch Live Public News