بھاٹی چوک واقعہ میں جاں بحق خاتون کے شوہر پر تشددکے معاملے کی انکوائری رپورٹ مکمل

بھاٹی چوک واقعہ میں جاں بحق خاتون کے شوہر پر تشددکے معاملے کی انکوائری رپورٹ مکمل
کیپشن: بھاٹی چوک واقعہ میں جاں بحق خاتون کے شوہر پر تشددکے معاملے کی انکوائری رپورٹ مکمل

ویب ڈیسک: لاہور کے علاقے بھاٹی میں جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ پر مبینہ تشدد کے معاملے میں وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر انٹرنل کاؤنٹیبلٹی برانچ نے انکوائری مکمل کر لی ہے۔

پولیس کے مطابق یہ انکوائری ایڈیشنل آئی جی عمران محمود، ڈی آئی جی ناصر عزیز ورک اور ڈی آئی جی عمران کشور پر مشتمل ٹیم نے کی، جس میں ایس پی سٹی بلال اور ایس ایچ او تھانہ بھاٹی زین کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔

انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں پولیس افسران غلام مرتضیٰ کو موقع واردات سے اٹھا کر تھانہ بھاٹی لے گئے، جبکہ اس کے ساتھ موجود دیگر رشتہ داروں سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے فوری طور پر مقتولہ کے والد کو فون کیا اور غلام مرتضیٰ کے ساتھ آنے والے ایک رشتہ دار تنویر کو بھی تھانے میں روک لیا۔

انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ غلام مرتضیٰ کو ایس ایچ او کے کمرے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کی تصدیق کمرے میں نصب کیمرے کی فوٹیج سے بھی ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق غلام مرتضیٰ کو تقریباً ساڑھے چار گھنٹے تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔

انکوائری ٹیم نے شورکوٹ جا کر غلام مرتضیٰ کا بیان بھی قلم بند کیا، جس میں اس نے بتایا کہ پولیس افسران اس پر بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کا الزام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔

دوسری جانب ایس پی اور ایس ایچ او نے اپنے بیانات میں مؤقف اختیار کیا کہ غلام مرتضیٰ پر صرف ہلکا پھلکا تشدد کیا گیا تھا۔ پولیس افسران کے مطابق ریسکیو اور دیگر اداروں کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ موقع پر خاتون کا ڈوبنا ممکن نہیں تھا، جس کی بنیاد پر شبہے کے تحت غلام مرتضیٰ کو تھانے منتقل کیا گیا۔

Watch Live Public News