ویب ڈیسک: پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد مالی خودمختاری کے لیے مختلف شعبوں میں کامیابی سے کام کر رہی ہے اور اب گھر بیٹھے کاروبار کے مواقع بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خواتین آن لائن پلیٹ فارمز اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی آمدنی میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اس حوالے سے اینووینچرز گلوبل پرائیویٹ لمیٹڈ کی سی ای او ندا اطہر نے کہا کہ ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے اور کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے مختلف مقامی و بین الاقوامی ادارے سرگرم عمل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی بینک کے تعاون سے جاری "ویمن اِن ٹیک" پروگرام خواتین کو ٹیکنالوجی سے متعلق کاروبار کے لیے تربیت اور معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق کپڑوں، خوراک یا دیگر مصنوعات کا آن لائن یا جدید انداز میں کاروبار کرنے والی خواتین بھی اس پروگرام میں شامل ہو سکتی ہیں۔
ندا اطہر کے مطابق گزشتہ آٹھ برسوں میں 1700 سے زائد خواتین کو تربیت دی جا چکی ہے۔ یہ مکمل آن لائن پروگرام ہے جس میں مختصر تربیت کے بعد بلاسود مالی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے گھر سے کاروبار کے مؤثر شعبوں میں آن لائن ری سیلنگ، ہوم میڈ فوڈ، تدریس، سلائی کڑھائی اور بیوٹی سروسز شامل ہیں، جن کے ذریعے وہ کم سرمایہ میں اپنی آمدنی کا مستقل ذریعہ بنا سکتی ہیں۔