ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں نوبل امن انعام اس لیے نہیں ملا کیونکہ وہ روس—یوکرین جنگ ختم نہیں کروا سکے، حالانکہ ان کے مطابق انہوں نے گزشتہ نو ماہ میں آٹھ جنگیں رکوا کر عالمی امن کے لیے بڑا کردار ادا کیا۔
کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’مجھے بتایا گیا کہ اگر میں روس اور یوکرین کی جنگ رکواؤں گا تو امن کا نوبل انعام ملے گا، مگر یہ نہیں دیکھا گیا کہ میں آٹھ جنگیں پہلے ہی بند کروا چکا ہوں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی بھی انہوں نے ہی کرائی تھی، اور اب صرف ایک بڑی جنگ کو ختم کرانا باقی ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہیں تو ہر جنگ رکوانے پر نوبل امن انعام ملنا چاہیے، لیکن وہ ’’لالچی نہیں بننا چاہتے۔‘‘ ان کے مطابق ’’نوبل انعام پانی کی فراہمی کے لیے کام کرنے والی خاتون نے بھی مجھے امن ایوارڈ کا حقدار قرار دیا ہے۔‘‘
روس—یوکرین جنگ سے متعلق ٹرمپ نے کہا کہ انہیں جنگوں میں ہونے والی اموات پر گہری تشویش ہے۔ ’’صرف گزشتہ ماہ 27 ہزار افراد مارے گئے، یہ جنگ ختم کروانا آسان نہیں، صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔‘‘
اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور دس ماہ میں 18 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ملکی تاریخ کی بدترین مہنگائی ورثے میں ملی تھی، جس کے بعد ان کی حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کی۔ ان کے مطابق مہنگائی میں کمی اور اسٹاک مارکیٹ میں بہتری انہی اقدامات کا نتیجہ ہے۔