18 سال بعد لاہور میں بسنت کی واپسی، معیشت کو 20 ارب سے زائد کا فائدہ متوقع

18 سال بعد لاہور میں بسنت کی واپسی، معیشت کو 20 ارب سے زائد کا فائدہ متوقع
کیپشن: 18 سال بعد لاہور میں بسنت کی واپسی، معیشت کو 20 ارب سے زائد کا فائدہ متوقع

ویب ڈیسک: لاہور بسنت فیسٹیول کے سابق منتظم سید ذوالفقار حسین کے مطابق، 18 سال بعد لاہور میں بسنت کی واپسی سے 20 ارب روپے سے زائد اقتصادی سرگرمی متوقع ہے۔

لاہور میں ایک اسٹوڈنٹ ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تین روزہ بسنت فیسٹیول 2026 سیاحت، ہاسپٹلٹی، ٹرانسپورٹ، خوراک، تجارتی اور متعلقہ صنعتوں کو فروغ دے گا، جبکہ شہر کی ایک اہم ثقافتی روایت کو بھی زندہ کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ آخری بسنت 2007 میں منعقد ہوئی تھی، جس میں تقریباً پانچ لاکھ افراد شریک ہوئے تھے۔ اس سال تقریبات میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد کے حصہ لینے کی توقع ہے، جن میں بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی شامل ہیں۔

انہوں نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو فیسٹیول کی واپسی کی اجازت دینے پر سراہا اور کہا کہ یہ لاہور کی ثقافتی شناخت کی بحالی اور پاکستان کی بین الاقوامی شبیہہ کو بہتر بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بسنت اب ایک مکمل صنعت بن چکی ہے، جو ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے، جیسے کہ پتنگ بنانے والے، دھاگے کی تیاری، ہاسپٹلٹی، ٹرانسپورٹ اور فوڈ سروسز میں کام کرنے والے۔

حسین نے کہا کہ حکومت نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کے تحت نئے قواعد وضع کیے ہیں، جن کی روشنی میں پتنگ بازی کی صرف 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو اجازت ہوگی۔

نئے قوانین کے مطابق منظور شدہ دھاگے اور مواد استعمال کیے جائیں گے، جبکہ پتنگوں اور دھاگوں کی فروخت یکم فروری سے شروع ہوگی۔ 8 فروری کے بعد تمام مواد مکمل طور پر ختم یا تلف کرنا ضروری ہوگا، اور خلاف ورزی کی سخت نگرانی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حفاظتی ہدایات میں منظور شدہ گُڈّا توا، ہاف توا اور ڈور پِنّا کے محدود دھاگوں کا استعمال شامل ہے اور والدین کو چاہیے کہ بچوں کی نگرانی کریں تاکہ وہ محفوظ طریقے سے حصہ لیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاہور میں تقریباً 5.6 ملین موٹرسائیکلیں رجسٹرڈ ہیں جبکہ تقریباً 0.7 ملین غیر رجسٹرڈ ہیں، جس سے فیسٹیول کے دوران مؤثر ٹریفک اور حفاظتی انتظامات کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔

بسنت 2007 میں ممنوع ہوئی تھی، جب دھات والے تیز دھاگوں اور چھتوں سے گرنے کے حادثات میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق نئے قوانین کا مقصد وقت اور مواد کی پابندی کے ذریعے خطرات کو کم کرتے ہوئے جشن کی اجازت دینا ہے۔

سیاحت کی صنعت کے نمائندوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور ملکی و غیر ملکی زائرین میں اضافے کی توقع ظاہر کی ہے۔ ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز اضافی طلب کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں، جبکہ مقامی پتنگ ساز پہلے ہی پیداوار بڑھا چکے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بڑی بھیڑ کے انتظام اور نئے قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی اور حفاظتی منصوبے حتمی شکل دے رہے ہیں۔

ثقافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت کی بحالی لاہور کے لیے اہم لمحہ ہے، جو رنگ، خوشی اور کمیونٹی کے بندھن کی علامت کو دوبارہ زندہ کرے گا، جبکہ اس ایونٹ کو ایک منظم اور خاندان دوست جشن کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

Watch Live Public News