ویب ڈیسک: بھارت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر کھیل میں سیاست کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران کمنٹری کے دوران سابقہ پاکستانی کرکٹر اور موجودہ کمنٹیٹر ثناء میر کے ایک بیان کو بنیاد بنا کر بھارتی میڈیا نے بے بنیاد پراپیگنڈا شروع کر دیا۔
کمنٹری کے دوران ثنا میر نے پاکستان ویمن ٹیم کی کھلاڑی نتالیہ پرویز کا تعلق آزاد کشمیر سے بتایا، جس پر بھارتی میڈیا کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور انہیں کمنٹری پینل سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
سابقہ کرکٹر اور کمنٹیٹر ثناء میر نے اپنے خلاف چلنے والے پروپیگنڈے پر ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ معاملات کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور کھیلوں سے وابستہ افراد پر بلا وجہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
ثنا میر کا کہنا تھا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ ایسی باتوں کی عوامی سطح پر وضاحت کرنا پڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری پاکستان کی ایک کھلاڑی کے آبائی شہر کے بارے میں کی گئی بات صرف اس بات کو اجاگر کرنے کے لیے تھی کہ انہوں نے ایک خاص علاقے سے آ کر کن مشکلات کا سامنا کیا اور کس طرح ایک شاندار سفر طے کیا۔
سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر ثناء میر کا کہنا تھا کہ بطور کمنٹیٹر ہم جب کھلاڑیوں کی کہانی بیان کرتے ہیں تو یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ کہاں سے آئے ہیں۔ میں نے آج دو دیگر کھلاڑیوں کے بارے میں بھی یہی کیا، جو دیگر علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ براہ کرم اس بات کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بطور کمنٹیٹر جو ورلڈ فیڈ پر تبصرہ کرتے ہیں، ہمارا مقصد کھیل، ٹیموں اور کھلاڑیوں پر توجہ دینا ہوتا ہے اور ان کی محنت اور جدوجہد کی متاثر کن کہانیوں کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ میرے دل میں کسی کے لیے کوئی دشمنی یا کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
It's unfortunate how things are being blown out of proportion and people in sports are being subjected to unnecessary pressure. It is sad that this requires an explanation at public level.
— Sana Mir ثناء میر (@mir_sana05) October 2, 2025
My comment about a Pakistan player's hometown was only meant to highlight the challenges… pic.twitter.com/G722fLj17C