امریکی ٹیرف ڈبلیو ٹی او کے اصولوں سےمتصادم،پاکستان کاموقف آگیا

امریکی ٹیرف ڈبلیو ٹی او کے اصولوں سےمتصادم،پاکستان کاموقف آگیا
کیپشن: امریکی ٹیرف ڈبلیو ٹی او کے اصولوں سےمتصادم,پاکستان کاموقف آگیا

ویب ڈیسک: امریکا نے حال ہی میں پاکستان کی برآمدات پر یکطرفہ 29 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے اور یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکی سامان پر 58 فیصد ٹیرف عائد کر رکھا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اس سزا کو غیر منصفانہ، اپنے تجارتی نظام کے خلاف اور عالمی تجارتی تنظیم ( ڈبلیو ٹی او) کے اصولوں سے متصادم قرار دیتا ہے۔ پاکستان منصفانہ تجارت کا حامی ہے اور امریکا کی جانب سے یہ اقدام پاکستان کے برآمدی شعبوں کو نہ صرف غیر مستحکم کرے گا بلکہ دو طرفہ تجارتی تعلقات کو بھی نقصان پہنچائے گا۔

وفاقی حکومت کی طرف سے یہ باور کرایا گیا ہے کہ یکطرفہ ٹیرفز عالمی معیشت کو عدم استحکام سے دوچار کریں گے۔ ٹریڈ وارز پر ڈبلیو ٹی او کے اصولوں کی بالادستی ضروری ہے۔   پاکستانی محنت کشوں کا تحفظ ترقیاتی تقاضا ہے، تحفظ پسندی نہیں۔ امریکی ٹیرفز پاکستانی برآمدات کے ساتھ ساتھ امریکی صارفین کو بھی نقصان پہنچائیں گے۔  پاک امریکا تجارتی مسائل  ایسے اقدام سے نہیں بلکہ بات چیت سے حل ہوں گے۔  

بین الاقوامی تجارتی پالیسیوں کو سزائی ٹیرفز نہیں، منصفانہ مقابلہ کی بنیاد پر ہونا چاہیے، تجارتی پالیسیاں باہمی احترام اور مشترکہ معاشی اہداف کی عکاس ہونی چاہئیں۔ پاکستان جیسی ترقی پذیر معیشتوں کو عالمی تجارت میں یکساں سلوک کا حق ہے۔ یکطرفہ کارروائیوں کے خلاف عالمی تجارتی سالمیت کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی برادری متحد ہو۔  
امریکی ٹیرفز پاکستان کی معاشی ترقی اور علاقائی تجارتی شراکت داریوں کو خطرے میں ڈال دے گی، پائیدار پاک-امریکہ تعلقات کیلئے جبر نہیں بلکہ متوازن تجارتی طریقہ کار ضروری ہے۔ ڈبلیو ٹی او کے معیارات کی پاسداری تمام قوموں کیلئے انصاف یقینی بناتی ہے۔  

پاکستان کی تجارتی پالیسیاں شفاف اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے عین مطابق ہیں۔ تجارتی تنازعات کے حل کیلئے تصادم نہیں، تعاون ضروری ہے اور   پاکستان تجارتی مساوات کیلئے تعمیری مذاکرات پر پُرعزم ہے

Watch Live Public News