ویب ڈیسک:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور وفاقی وزیر قانون اعظم تارڑ کی مشترکہ پریس کانفرنس, وزیر قانون اعظم تارڑ نے کہا اڈیالہ جیل کی حدود صوبائی حکومت کے اندر آتی ہے، جیل مینوئل رول 265 کے مطابق ایک خط اور ایک ملاقات کر سکتے ہیں ایک ہفتے میں، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا پی ٹی آئی خاتون رہنما نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیا،تینوں بہنیں 9 مئی بعد کور کمانڈر ہاؤس کے باہر موجود تھیں۔
وزیر قانون اعظم تارڑ کا کہنا تھا کہ بار بار ایک ہی چیز دوہرائی جا رہی ہے، بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل سے ملاقاتیں، اڈیالہ جیل کی حدود صوبائی حکومت کے اندر آتی ہے،بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ ملزم کے طور پر سزا کاٹ رہے ہیں،جیل مینوئل رول 265 کے مطابق ایک خط اور ایک ملاقات کر سکتے ہیں ایک ہفتے میں، جیل رول کے مطابق 6 افراد سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ملاقاتوں کے دوران کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہو گی،یہ باتیں سوشل میڈیا پر نہیں چلائی جائیں گی،یہ ملاقاتیں سپرٹینڈنٹ جیل کی اجازت سے ہوں گی، مرکزی اختیارات سپرٹینڈنٹ جیل کو دیا گیا، قانون وہی ہے جو دہائیوں سے نافذ عمل ہے، نظام ریاست/ سلطنت کے تحت چلنا ہے،دوسرے ملک جا کر لوگوں میں کھڑے ہو کر احکامات دئیے جائیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ قانون نے اپنا راستہ لینا ہوتا ہے،آئین کے آرٹیکل 25 کے مطابق سب سے برابر سلوک کرنا چاہیے، پی ٹی آئی خاتون رہنما نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیا،بین الاقوامی میڈیا کو پاکستان حکومت کے خلاف فیڈ کیا جاتا ہے،بانی پی ٹی آئی کا ایک وقت کا ناشتہ غریب آدمی ہفتے کا کھانا ہے،آج دعوے سے کہتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں اتنی سہولیات کسی قیدی کو نہیں ملیں۔
تینوں بہنیں 9 مئی بعد کور کمانڈر ہاؤس کے باہر موجود تھیں، جیل سپرنٹینڈنٹ کی موجودگی میں ملاقاتیں ہوتی ہیں، جیل مینوئل کی خلاف ورزی پر ملاقاتیں بند ہوگئیں، 190 ملین پاؤنڈ کے کیس کا جواز کوئی نہیں ہے، حکومت نے اڈیالہ جیل کے باہر قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
بانی پی ٹی آئی کی بہن نے خود مانا کہ ہشاش بشاش تھے لیکن غصے میں تھے،اب اڈیالہ جیل کے باہر قانون کی خلاف وزری کرنے والوں سے نمٹا جائے گا۔
وفاقی وزرا کا کہنا تھا کہ ملکی اکانومی بہتر ہو رہی ہے،آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے،کوئی شہید ہوتا ہے اس کا مذاق اڑاتے ہیں،ذاتی مقاصد میں آپ ناکام رہیں گے۔
اعظم تارڑ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ میں نے کابینہ بنانے کے لیے سزا یافتہ فرد سے مشورہ کرکے بنانی ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا این ایف سی کے اجلاس میں آنا خوش آئند ہے، آرٹیکل 243 میں کوئی ابہام نہیں، آرمی چیف بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز ہو گے،آرمی چیف کی مدت 5 سال رکھی گئی۔
پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں،پارٹی کی کمانڈ ایک شخص سے آتی ہے اور وہ نواز شریف ہے،پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ بھارت سے چل رہے ہیں۔