(ویب ڈیسک ) مہنگائی کےستائے عوام کیلئے بری خبر ، گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ سرکل جنید عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گندم مہنگی جبکہ عالمی مارکیٹ میں گندم سستی مل رہی ہے، حکومت نے اگر گندم کی امپورٹ کے حوالے سے جلد فیصلہ نہ کیا تو گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت گندم اور اٹے کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پنجاب سے صوبہ بندی ہے،ایک مہینہ میں گندم اورآٹے کی قیمتوں مین ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
جنید عزیز نے کہا کہ یکم اگست سے تا حال گندم کی قیمت میں 35 روپے ،جبکہ آٹے کی قیمت میں 29 روپے کلو تک کا اضافہ ہوا۔ یکم اگست کو گندم کی قیمت 62 روپے کلو تھی ،جبکہ یکم ستمبر کو یہ قیمت 97 روپے کلو ہوگئی۔یکم اگست کو ڈھائی نمبر آٹا 76 روپے کلو جبکہ آج ڈھائی نمبر آٹا 99 روپے کلو ہوگیا ہے،یکم اگست کو فائن آٹا 79 روپے کلو جبکہ اج 108 روپے کلو ہوگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی مارکیٹ میں گندم کی قیمت 96 روپے کلو جبکہ عالمی مارکیٹ میں یہ قیمت 85 روپے ہے،پاکستان میں آج عالمی مارکیٹ سے 10 روپے کلو گندم مہنگی ہے، سندھ حکومت اگلے ہفتے گندم ریلیز کرتی ہے تو بازارمیں گندم کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو رواں برس کم سے کم 15 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرنی پڑے گی،حکومت گندم کی امپورٹ کی اجازت صرف فلور ملز کو یا ٹی سی پی کو دے ،ٹریڈرز گندم امپورٹ کرکے مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔