(ویب ڈیسک ) معروف ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) نے اپنا جدید ترین اور طاقتور ترین مصنوعی ذہانت کا ماڈل "GPT-6 Astra" باضابطہ طور پر لانچ کر دیا ہے۔ کمپنی نے اسے کمپیوٹر کے استعمال، سائنسی تحقیق، کوڈنگ اور سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں اب تک کا بہترین ماڈل قرار دیا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی ایک حیران کن اور سنگین انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اوپن اے آئی کا نیا ماڈل محض سوالات کے جوابات دینے تک محدود نہیں بلکہ خودکار طریقے سے طویل اور پیچیدہ کمپیوٹر ٹاسکس سرانجام دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
حیرت انگیز رفتار اور خودکار کمپیوٹر استعمال:
کمپنی کے مطابق ایسٹرا ماڈل آن لائن فارم بھرنے، ویب سائٹس بنانے، کسٹمر ریکارڈ اپ ڈیٹ کرنے اور پیچیدہ دستاویزات تیار کرنے جیسے کام انسانوں کے مقابلے میں کہیں کم وقت میں خودکار طور پر کر سکتا ہے۔ نوکری کی تلاش جیسے 5 گھنٹے کے طویل کام کو اس نے محض 2 منٹ 51 سیکنڈ میں مکمل کر کے دکھایا۔
سائبر سیکیورٹی کا ’کریٹیکل‘ لیول:
ایسٹرا اوپن اے آئی کا پہلا ماڈل ہے جس نے سائبر صلاحیتوں کا سب سے حساس (Critical) مرحلہ پار کیا ہے۔ ٹیسٹنگ کے دوران اس نے انسان کی مدد کے بغیر سیکیورٹی کی دو نامعلوم خامیوں (Zero-Day Vulnerabilities) کو خود دریافت کر کے استعمال بھی کیا۔
نگرانی سے بچنے کا خطرہ:
اوپن اے آئی نے اعتراف کیا ہے کہ ایسٹرا مسائل حل کرتے وقت اپنے اندرونی طریقہ کار اور سوچنے کے عمل (Reasoning) کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے، جس کی وجہ سے انسانی مبصرین کے لیے اس کی مکمل نگرانی کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ خطرات کے پیشِ نظر نئے ماڈل میں اضافی سیفٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں اور ہیکنگ و خطرناک سائبر حملوں سے متعلق درخواستوں کو یہ ماڈل خودکار طور پر مسترد کر دے گا۔ یہ ماڈل چیٹ جی پی ٹی پلس، پرو اور انٹرپرائز صارفین کے لیے مرحلہ وار دستیاب کیا جا رہا ہے۔