(ویب ڈیسک)مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکا اور چین کے درمیان مسابقت تیز تر ہو گئی ہے، جہاں چینی اے آئی اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک (DeepSeek) نے امریکی کمپنی اینتھروپک کے معروف ٹول کلاڈ کوڈ کو ٹکر دینے کے لیے اپنا جدید ترین اوپن سورس ٹول ' سپر ایجنٹ' (Super-Agent) پیش کر دیا ہے۔
روایتی اے آئی ماڈلز کے برعکس، جنہیں استعمال کرنے کے لیے ڈویلپرز کو تحریری پرامپٹ یا سوال دینا پڑتا ہے، سپر ایجنٹ مکمل خود مختاری کے ساتھ کام کرتا ہے۔
یہ ٹول ڈویلپرز کے گروپ چیٹس اور کوڈنگ سرگرمیوں کی خاموشی سے نگرانی کرتا ہے، کوڈنگ کے مسائل اور بگز کی فوری شناخت کرتا ہے اور کسی انسانی ہدایت کا انتظار کیے بغیر ازخود حل اور کوڈ فراہم کر دیتا ہے۔
گٹ ہب (GitHub) پر جاری یوزر مینوئل کے مطابق اس کا بنیادی مقصد انسانی مداخلت کو کم سے کم کر کے ایک حقیقی ڈیجیٹل ٹیم ممبر کے طور پر کام کرنا ہے۔
15 ارب ڈالرز (100 ارب یوآن) کی خطیر فنڈنگ:
اپنے جدید اے آئی منصوبوں اور مجوزہ انیشل پبلک افرنگ (IPO) کی تیاری کے لیے ہانگزو میں قائم اس کمپنی نے 100 ارب یوآن (تقریباً 15 ارب ڈالر) کی بھاری فنڈنگ حاصل کی ہے۔
فنڈنگ راؤنڈ میں دنیا کی سب سے بڑی بیٹری ساز کمپنی CATL اور معروف ٹیک کمپنی ٹینسینٹ (Tencent) سرفہرست سرمایہ کاروں میں شامل ہیں۔
امریکا چین اے آئی جنگ:
ڈیپ سیک نے حال ہی میں اپنے جدید V4.1-Flash ماڈلز کے ذریعے میموری کے کم استعمال اور تیز رفتار پروسیسنگ کے باعث عالمی سطح پر پروگرامرز کو اپنی جانب راغب کیا ہے۔
سپر ایجنٹ کی لانچ کا اعلان وی چیٹ پر ڈیپ سیک کی نئی 'ہارنس ٹیم' (Harness team) نے کیا ہے، جس کا مقصد امریکی بالادستی کے مقابلے میں ایک سستا، مؤثر اور ہر ایک کے لیے قابلِ رسائی اوپن سورس متبادل فراہم کرنا ہے۔
کمپنی دستاویزات کے مطابق سپر ایجنٹ فی الوقت ایک ریسرچ پروٹو ٹائپ مرحلے میں ہے اور اسے مکمل کمرشل پروڈکٹ بننے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔
تاہم ماہرین کے مطابق یہ اقدام واضح ثبوت ہے کہ چینی کمپنی سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی دنیا میں ڈیفالٹ کوڈنگ اسسٹنٹ بننے کے لیے جارحانہ انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔