(ویب ڈیسک ) ٹرمپ نے ایران کو کھلی دھمکی دیتے ہوئےکہا ہے کہ اگر ایران نے انکے قتل کی کوشش کی تو پورے ملک کو ختم کر دیں گے۔ انہوں نےیہ بھی کہا کہ اپنے مشیروں کو کارروائی کی ہدایت دے دی ہے۔
امریکا نے اشارہ دیا تھا کہ جوہری اسلحہ تیار کرنے کے الزامات کو لے کر وہ ایران پر دباؤ کی پالیسی نافذ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے حکم پر ٹرمپ نے دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، "اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ پوری طرح سے ختم ہو جائیں گے۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں بچے گا۔"
ذرائع کے مطابق سال 2020 میں ٹرمپ نے ایران پراسٹرائک کی ہدایت دی تھی، جس میں ایران کے اسلامک ریولیوشنری گارڈ کارپس کے رہنما قاسم سلیمانی شہید ہو گئے تھے۔
گزشتہ سال پنسلوانیہ میں ہوئی ریلی سے پہلے ایران کی دھمکی کی وجہ سے ٹرمپ کا تحفظ بڑھا دی گیا تھا۔ حالانکہ افسروں نے تب یہ بھی کہا تھا کہ وہ نہیں مانتے کہ اس قتل کی کوشش میں ایران کا ہاتھ ہے۔ نومبر میں بھی محکمہ انصاف نے اعلان کیا تھا کہ صدارتی انتخاب سے پہلے ٹرمپ کو مارنے کی ایران کی سازش کو فیل کر دیا تھا۔ محکمہ نے الزام لگایا کہ ایران کے افسروں نے 51 سال کے فرہاد شیکری کو ستمبر میں ٹرمپ پر نظر رکھنے اور قتل کے لیے ہدایات دی تھیں۔ تب ایران کے افسروں نے الزامات کو خارج کر دیا۔
جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر پابندیوں سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں پہلے بھی پابندیاں عائد کرنا پسند نہیں تھا اور وہ ایران کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے خوبصورت عوام کے ساتھ ’ایک زبردست ڈیل‘ کرنا چاہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے کئی امریکی-ایرانی دوست ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ’تباہ کن صورتحال‘ سے بچنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ لیکن وہ کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔