(ویب ڈیسک ) ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا۔ بابر اعظم کو دوبارہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مقرر کردیا گیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے قومی ٹیسٹ ٹیم کے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان کرتے ہوئے بابر اعظم کو دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ بابر اعظم اس سے قبل 2020 سے 2023 تک بھی قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں۔
اعلان کردہ اسکواڈ میں عامر جمال، عبداللہ فضل، علی عثمان، اذان اویس، امام الحق، خرم شہزاد، محمد عباس، محمد علی، محمد اویس ظفر، غازی غوری، محمد رضوان، ساجد خان، سلمان علی آغا، شان مسعود اور عبید شاہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی، اسپنر نعمان علی اور حسن علی کو ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا، جبکہ سعود شکیل فٹنس مسائل کے باعث ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے۔
اس موقع پر قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے کہا کہ 16 رکنی اسکواڈ ویسٹ انڈیز کا دورہ کرے گا، جبکہ سعود شکیل کی مکمل فٹنس بحال ہونے میں ابھی کچھ وقت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم میں تبدیلیاں بہتر نتائج کے حصول کے لیے کی گئی ہیں اور امید ہے کہ اس کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔
عاقب جاوید نے شاہین شاہ آفریدی کو ایک شاندار بولر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ریڈ بال کرکٹ میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم نے کپتانی قبول کرنے کے لیے کوئی شرط عائد نہیں کی، جبکہ ہر کھلاڑی کو اپنی کارکردگی کے ذریعے ٹیم میں جگہ برقرار رکھنا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلیکشن کمیٹی اور بورڈ ہر سیریز میں نیا کپتان مقرر کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ کپتان کو تسلسل کے ساتھ موقع دیا جانا چاہیے، اور امید ہے کہ بابر اعظم آئندہ دو سے تین سال تک قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کریں گے۔
عاقب جاوید نے یہ بھی بتایا کہ مصباح الحق اور سرفراز احمد کو سلیکشن کمیٹی میں شامل ہوئے ابھی چھ ماہ ہی ہوئے ہیں، تاہم ٹیم کی تیاری اطمینان بخش ہے اور مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے کہا کہ کرکٹ میں کامیابی کے لیے تسلسل بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق کپتان اور کھلاڑی دونوں کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ نتائج میں مستقل مزاجی موجود ہے یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بابر اعظم کو ٹی ٹوئنٹی کی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹیسٹ کرکٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کپتان مقرر کیا گیا ہے۔