(ویب ڈیسک ) حکومتی ذرائع کے مطابق ترلائی کی مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید ہو چکے ہیں اور متعدد نمازی زخمی ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خود کُش بمبار کی شناخت ہو چکی ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق خود کُش بمبار نے افغانستان سے دہشت گردانہ کاروائیوں کی تربیت حاصل کی۔ خودکش بمبار متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے اور کچھ عرصہ پہلے افغانستان سے آیا تھا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق افغانستان میں موجود مختلف دہشگرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔پاکستان میں ہر دہشتگردانہ کاروائی کے پس پشت افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہے۔پوری قوم ایسی مذموم اور بزدلانہ کاروائیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مساجد اور معصوم شہریوں پر اس طرح کے بزدلانہ حملے پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔