ایف آئی اے نے حوالہ ہنڈی کی تحقیقات کا دائرہ میڈیا انڈسٹری تک پھیلا دیا

ایف آئی اے نے حوالہ ہنڈی کی تحقیقات کا دائرہ میڈیا انڈسٹری تک پھیلا دیا
کیپشن: ایف آئی اے نے حوالہ ہنڈی کی تحقیقات کا دائرہ میڈیا انڈسٹری تک پھیلا دیا

ویب ڈیسک: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان کے میڈیا سیکٹر میں مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور اس سلسلے میں نجی ٹی وی کے کمپنی سیکریٹری کو طلب کر لیا گیا ہے، جبکہ متعدد دیگر معروف اداروں کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 

تفتیش کاروں کے مطابق اب تک سامنے آنے والی معلومات ایک ایسے بڑے غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورک کا صرف پانچ فیصد حصہ ہو سکتی ہیں جو مبینہ طور پر میڈیا مالکان کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔

تحقیقات کا آغاز بظاہر ایک معمول کی کارروائی سے ہوا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے کمرشل بینکنگ سرکل کراچی نے حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے رقوم کی ترسیل اور غیر قانونی طور پر غیر ملکی کرنسی فروخت کرنے کے الزامات پر نجی بینک کی ایک برانچ پر چھاپہ مارا۔ اس کارروائی کے دوران نجی بینک کے ایریا مینیجر نعمان رؤف کو 15 ہزار امریکی ڈالر کی غیر قانونی فروخت کے الزام میں چند ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا۔

تاہم تفتیش کے دوران نعمان رؤف کے ذاتی موبائل فون سے ملنے والے شواہد نے اس کیس کا رخ مکمل طور پر بدل دیا اور تحقیقات کا دائرہ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری تک پھیل گیا۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق تقریباً ایک کروڑ متحدہ عرب اماراتی درہم حوالہ کے ذریعے منتقل کیے گئے اور بعد میں نجی بینک کی زمزمہ برانچ سے تقسیم کیے گئے۔ بعد ازاں مزید چھاپوں کے دوران حوالہ کے ذریعے رقوم کی منتقلی اور غیر قانونی ڈالر کی خرید و فروخت کا ایک اور نیٹ ورک بھی سامنے آیا جو اسی بینک کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔

اس پورے نیٹ ورک کی کارروائی کو اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ پاکستانی شناخت کو چھپایا جا سکے۔ رقم کی ترسیل میں شامل افراد سری لنکا، نیپال، دبئی اور سنگاپور میں رجسٹرڈ سم کارڈ استعمال کر رہے تھے اور پورے سلسلے میں کسی پاکستانی نمبر کا استعمال نہیں کیا گیا۔ 

حکام ان افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ تفتیش کاروں کے مطابق ممکن ہے کہ کچھ نام فرضی ہوں، تاہم ان نمبروں پر کال اور پیغامات کا ریکارڈ موجود ہے۔

تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک کم از کم گزشتہ تین برس سے خاموشی کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ذرائع کے مطابق اب تک سامنے آنے والی معلومات مبینہ منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا صرف پانچ فیصد حصہ ہیں اور جب کمپنیوں کے مکمل ریکارڈ حاصل کر کے ان کا تجزیہ کیا جائے گا تو تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا امکان ہے۔

حکام کے مطابق اس تفتیش کے آگے بڑھنے کے ساتھ مزید بڑے نام سامنے آنے کی توقع ہے اور اسے اندرونی طور پر اربوں روپے کے اسکینڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Watch Live Public News