صدر ٹرمپ کے حکم کے بعد امریکا نے تباہ کن بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا

صدر ٹرمپ کے حکم کے بعد امریکا نے تباہ کن بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا
کیپشن: صدر ٹرمپ کے حکم کے بعد امریکا نے تباہ کن بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا

ویب ڈیسک: امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیوکلیئر ٹیسٹنگ پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے مطالبے کے بعد بین البراعظمی بیلسٹک میزائل Minuteman III کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

یہ تجربہ بدھ کی صبح سویرے کیلیفورنیا کی وینڈن برگ اسپیس فورس بیس سے کیا گیا، جہاں امریکی ایئر فورس گلوبل اسٹرائیک کمانڈ نے  Minuteman III میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔ میزائل نے تقریباً 4,200 میل کا فاصلہ طے کر کے مارشل آئی لینڈز میں رونالڈ ریگن بیلسٹک میزائل ڈیفنس ٹیسٹ سائٹ کواجالین ایٹال پر اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔

یہ تجربہ GT 254 سیریز کا حصہ تھا، جس کا مقصد امریکا کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے دفاعی نظام کی درستگی اور کارکردگی کو جانچنا تھا۔ ایئر فورس کے مطابق، یہ ٹیسٹ پہلے سے شیڈول کیا گیا تھا اور اس کا موجودہ عالمی حالات سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم، یہ تجربہ ٹرمپ کے اس اعلان کے فوراً بعد کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا نیوکلیئر ٹیسٹنگ دوبارہ شروع کرے گا اور امریکا کے پاس "دنیا کو 150 بار تباہ کرنے کے لیے کافی نیوکلیئر ہتھیار" ہیں۔

Minuteman III میزائل 1970 کی دہائی میں پہلی بار تعینات کیا گیا تھا اور یہ امریکی نیوکلیئر ٹرائیڈ کا اہم حصہ ہے، جس میں آبدوزوں سے لانچ ہونے والے بیلسٹک میزائل اور بمبار طیاروں پر مبنی نیوکلیئر ہتھیار بھی شامل ہیں۔ ہر میزائل ایک نیوکلیئر وارہیڈ لے جا سکتا ہے اور اس کی رینج تقریباً 13,000 کلومیٹر ہے۔ ایئر فورس 2030 کی دہائی میں Minuteman III کو نئے نسل کے LGM-35A Sentinel میزائل سسٹم سے تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

اس تجربے سے قبل، روس کو اس کی اطلاع دے دی گئی تھی، جس کی تصدیق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کی۔

Watch Live Public News