6 نومبر 1947 کا سانحۂ جموں، ڈوگرہ افواج اور آر ایس ایس کے ہاتھوں کشمیری مسلمانوں کا قتلِ عام، تاریخ کا فراموش کردہ المیہ

6 نومبر 1947 کا سانحۂ جموں، ڈوگرہ افواج اور آر ایس ایس کے ہاتھوں کشمیری مسلمانوں کا قتلِ عام، تاریخ کا فراموش کردہ المیہ
کیپشن: 6 نومبر 1947 کا سانحۂ جموں، ڈوگرہ افواج اور آر ایس ایس کے ہاتھوں کشمیری مسلمانوں کا قتلِ عام، تاریخ کا فراموش کردہ المیہ

ویب ڈیسک: 6 نومبر 1947 کو جموں میں کشمیری مسلمانوں کا قتلِ عام جدید تاریخ کے المناک واقعات میں سے ایک ہے، جس میں ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کی افواج، آر ایس ایس کے کارکنوں اور مسلح انتہا پسند گروہوں پر ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔  اکتوبر اور نومبر 1947 کے دوران جموں میں ڈھائی لاکھ سے زائد مسلمانوں کے قتلِ عام کا تخمینہ پیش کیا جاتا ہے، جبکہ ہزاروں خاندانوں کو اپنی آبائی سرزمین چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنا پڑی۔

 لندن کے اخبار دی ٹائمز نے 10 اگست 1948 کی رپورٹ میں تقریباً 2,37,000 مسلمانوں کے منظم قتل کا ذکر کیا، جبکہ بعض دیگر تاریخی اندازوں میں یہ تعداد 2,60,000 سے زائد بتائی جاتی ہے۔ سانحۂ جموں کے دوران تقریباً پانچ لاکھ مسلمانوں کو جبری طور پر بے گھر کیا گیا اور انہیں پاکستان کے پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔

 سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ 1947 کے قتلِ عام اور جبری نقل مکانی کے نتیجے میں جموں میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب شدید متاثر ہوا، حالانکہ تقسیمِ ہند سے قبل وہ خطے کی تقریباً 61 فیصد آبادی پر مشتمل تھے۔ تاریخی روایات اور دستاویزات کے مطابق پٹیالہ اور کپور تھلہ سے مسلح ہندو و سکھ جتھوں کو جموں لایا گیا، جبکہ آر ایس ایس کے کارکنوں پر مسلمانوں کے خلاف تشدد اور قتلِ عام میں معاونت کے الزامات عائد کیے گئے۔ آر ایس ایس کے انتہا پسند گروہوں اور مسلح جتھوں پر الزام ہے کہ انہیں عام شہریوں کے لباس میں منظم کیا گیا، جبکہ ڈوگرہ انتظامیہ پر ان کارروائیوں کی سرپرستی اور تحفظ فراہم کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے۔

مہاتما گاندھی نے 25 دسمبر 1947 کو جموں کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے ہندوؤں، سکھوں اور باہر سے آنے والے افراد نے مسلمانوں کو قتل کیا اور خواتین کی بے حرمتی کی۔ جواہر لعل نہرو کے 17 اپریل 1949 کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کے نام خط کا حوالہ بھی جموں کی صورتحال اور آر ایس ایس کی سرگرمیوں سے متعلق تاریخی بحث میں دیا جاتا ہے۔

 اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان (UNCIP) کی 1949 کی رپورٹ میں ایک زیلدار کی گواہی درج ہے، جس کے مطابق اس نے 20 اکتوبر 1947 کو بھمبر کے دورے کے دوران مہاراجہ کو مسلمانوں کے خاتمے کا حکم دیتے سنا۔ 

 کشمیری صحافی اور سیاسی کارکن وید بھاسن نے ادھم پور، چنینی، رام نگر، ریاسی اور بھدرواہ میں مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر قتلِ عام کا ذکر کرتے ہوئے آر ایس ایس کارکنوں اور سکھ جتھوں کی کارروائیوں کی نشاندہی کی۔  معروف سیاسی کارکن کرشن دیو سیٹھی کے مطابق مہاراجہ ہری سنگھ اور ان کی انتظامیہ نے جموں میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے قتلِ عام کی راہ ہموار ہوئی۔1947 میں مسلمانوں کو غیر مسلح کرنے، ڈوگرہ فوج کے مسلمان اہلکاروں اور پولیس افسران کو برطرف کرنے اور بعد ازاں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کے واقعات نے ریاستی انتظامیہ کے کردار پر سنگین سوالات اٹھائے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق  5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈومیسائل اور جائیداد سے متعلق قوانین میں تبدیلیوں نے مسلم اکثریتی شناخت اور آبادیاتی تناسب کے تحفظ سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا۔ 6 نومبر کا یومِ شہدائے جموں 1947 کے بے گناہ مقتولین کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ عالمی برادری کو یہ پیغام دیتا ہے کہ کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت، انسانی حقوق اور تاریخی انصاف آج بھی ایک حل طلب عالمی مسئلہ ہیں۔

Watch Live Public News