(ویب ڈیسک ) پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) اور پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل) کی تمام 8 فرنچائزز کے مالکان نے آئندہ سال لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کو اپریل مئی کے بجائے جنوری کی ونڈو میں منتقل کرنے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔
کرکٹ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یکم ستمبر کو لندن میں منعقدہ پی ایس ایل گورننگ کونسل کے اجلاس میں اس تجویز پر تفصیلی بحث ہوئی۔ لیگ کے میڈیا رائٹس ہولڈر 'والی ٹیکنالوجیز' نے مؤقف اپنایا کہ اپریل اور مئی میں ٹورنامنٹ کروانے سے اشتہارات کی مد میں خاطر خواہ آمدنی حاصل نہیں ہوتی کیونکہ یہ وقت رمضان المبارک کے فوراً بعد آتا ہے جب زیادہ تر کمپنیاں اپنا سالانہ اشتہاری بجٹ خرچ کر چکی ہوتی ہیں۔
فرنچائز مالکان نے نشریاتی آمدنی کی مکمل اور بروقت وصولی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ موجودہ معاہدے کے تحت سینٹرل ریونیو پول سے 95 فیصد براڈکاسٹ ریونیو تمام 8 فرنچائزز میں تقسیم ہوتا ہے۔
پی ایس ایل پہلے فروری اور مارچ میں کھیلی جاتی تھی، تاہم 2025 اور 2026 میں آئی سی سی ایونٹس کے باعث اسے اپریل مئی میں منتقل کیا گیا جہاں اس کا ٹکراؤ آئی پی ایل سے ہوا۔ اگر پی ایس ایل کو جنوری میں منتقل کیا جاتا ہے تو آسٹریلیا کی بگ بیش (BBL) اور جنوبی افریقا کی SA20 کے باعث غیر ملکی اسٹارز کی دستیابی مشکل ہو سکتی ہے۔
جنوری اور فروری میں پنجاب کے روایتی وینیوز (لاہور، ملتان اور راولپنڈی) میں شدید سردی اور دھند لاجسٹک مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے حل کے لیے تجویز دی گئی ہے کہ ابتدائی میچز کراچی میں کروائے جائیں اور موسم بہتر ہونے پر پنجاب اور پشاور کا رخ کیا جائے۔
پاکستان ٹیم کے پاس نومبر کے وسط سے لے کر مارچ تک کا وقت مکمل خالی ہے، جس دوران کوئی انٹرنیشنل سیریز شیڈول نہیں ہے۔
اجلاس میں ملک میں ای اسپورٹس (eSports) کے شعبے میں قدم رکھنے اور سال کے وسط میں ایک اضافی ٹورنامنٹ کروانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا تاکہ سال بھر شائقین کی دلچسپی برقرار رہے اور ریونیو میں اضافہ ہو۔
رپورٹ کے مطابق جنوری کی ونڈو اور دیگر تجاویز پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مزید بات چیت کے بعد حتمی تاریخوں کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔