پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق، 2030 تک 10 لاکھ اے آئی ماہرین تیار کرنے کا ہدف

 پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق، 2030 تک 10 لاکھ اے آئی ماہرین تیار کرنے کا ہدف
کیپشن:  پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق، 2030 تک 10 لاکھ اے آئی ماہرین تیار کرنے کا ہدف

ویب ڈیسک: اسلام آباد میں پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سویلائزیشنز کے اشتراک سے پاک روس آئی ٹی تعاون پر اعلیٰ سطحی ویبینار منعقد ہوا، جس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔ ویبینار میں پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی اور دونوں ممالک کی معروف آئی ٹی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کا ٹیلنٹ اور روس کی سائنسی و انجینئرنگ مہارت ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ پاکستان 2030 تک 10 لاکھ مصنوعی ذہانت کے ماہرین تیار کرنے اور 7 نئے اے آئی مراکز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان منصوبے میں ای پاکستان معاشی تبدیلی کا اہم ستون ہے، جبکہ 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پاک روس ٹیکنالوجی تعاون سے مشترکہ مصنوعات، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ویبینار میں چیئرمین پاشا نے مشترکہ ٹیکنالوجی مصنوعات کے آغاز کے لیے 90 روزہ روڈ میپ تیار کرنے کی تجویز دی۔ شرکا نے مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، سائبر سکیورٹی، کوانٹم کمپیوٹنگ اور جدید کمپیوٹنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے روسی کمپنیوں کو پاکستانی آئی ٹی اداروں کے ساتھ روابط اور معاہدوں میں سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

روسی اور پاکستانی ماہرین نے مشترکہ پائلٹ منصوبوں، فن ٹیک، انٹرپرائز سافٹ ویئر اور مقامی زبانوں کے لیے اے آئی ماڈلز کی تیاری میں تعاون کو دونوں ممالک کے لیے اہم موقع قرار دیا۔ شرکا کے مطابق اس شراکت داری سے آئی ٹی برآمدات، سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں تک رسائی میں اضافہ ممکن ہے۔

 

Watch Live Public News