ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کے اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر سے متعلق مبینہ خفیہ معلومات افشا ہونے کے معاملے پر نئی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے تناظر میں امریکی گولہ بارود کے ذخائر میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس سامنے آنے کے بعد تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے پاس کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے وافر مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود موجود ہے۔ تاہم انتظامیہ نے واضح کیا کہ فوجی نوعیت کی خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔
گزشتہ روز اس معاملے پر صحافیوں کے سوالات کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ بعض اقسام کا گولہ بارود دیگر کے مقابلے میں زیادہ دستیاب ہے، تاہم مجموعی طور پر امریکا دفاعی اعتبار سے مضبوط پوزیشن میں ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ امریکا کے پاس گولہ بارود کے " بڑے ذخائر" موجود ہیں اور ملک اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔