ویب ڈیسک: معروف یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی نے دوران حراست ہونے والے ناروا سلوک کی ساری تفصیلات بتا دیں، مجھے گالیاں دی گئیں، منہ پر تھپڑ مارے گئے جبکہ میں نے اپنےسوشل میڈیا اکاونٹس کے پاس ورڈز،موبائل سب کچھ اُن کے حوالے کردیا تھا کچھ بھی نہیں چھپایا پھر بھی مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
گزشتہ 3 ماہ سے ایک بھی لفظ منہ سے نہ بولنے والے معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی نے آخر کار خاموشی توڑ دی، اپنے نئے ’ویلاگ‘ میں دوران حراست پیش آنے والے حالات کے بارے بتایا کہ کیسے اُن کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا حالانکہ این سی سی آئی اے کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔
ڈکی بھائی کا کہنا تھا کہ این سی سی آئی اے آفس جب پہنچا تو مجھے سے تفتیش کی گئی اور سوالات کئے ’اپلیکیشنز کی پروموشن‘ کے بارے، جو سوال وہ کرتے گئے میں اُن کو بتاتا گیا، میرا 23 دن کا ریمانڈ لیا گیا مگر میں نے ساری تفصیلات 23 منٹ میں فراہم کردی تھیں، میرے تفتیشی افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض تھے اُن کا آئی او مجھے کہتا تم پر ایف آئی آر ہونے والی ہے، تیرے پیچھے تمام ایجنسیاں لگی ہوئی ہیں، پھر مجھے حوالات میں بند کردیا گیا، صبح مجھے عدالت لے گئے جہاں میرا دو روز کا ریمانڈ دے دیا گیا۔
این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چودھری نے آئی او کو کہا اس کو میرے کمرے میں لے کر آو جہاں سرفراز چودھری نے سوال کیا تم ’کونسے ملک کے کنٹری ہیڈ‘ ہو، میں نے جواب دیا سر ! کسی کا نہیں،جس پر انہوں نے مجھے زور دار تھپڑ مارے اور گالیاں دینا شروع کردیں، کہ تم وطن عزیز کے بچوں کو خراب رہےہو، کدھر سے پیسہ آتا ہے تمھارے پاس؟ جس پر میں نے بتایا کہ میں ایک یوٹیوبر ہوں۔
ڈکی بھائی نے بتایا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض کے فرنٹ مین کو صرف مجھے سے پیسے مانگنے کے لئے رکھا ہوا تھا، اُس نے مجھے کہا تم نے اپنا مسئلہ حل نہیں کرنا، تمہارا سارا مسئلہ آئی او کے ہاتھ میں ہے جو 8،7 کروڑ میں حل ہوجائے گا۔
ڈکی بھائی نے یہ بھی بتایا کہ کیسے اُن کے اکاونٹ سے 9 کروڑ روپے ٹرانسفر کرکے اس کو ریکوری بنا کر ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چودھری نے مختلف پوڈ کاسٹ میں پیش کیا۔
اصل حقیقت بتاتے ہوئے ڈکی بھائی نے کہا میں نے سوال کیا کہ آپ نے میرے اکاوئنٹس سے 3 لاکھ 26 ہزار ڈالرز ٹرانسفر کیوں کرنے ہیں؟ مجھے جواب دیا گیا لگتا ہے تم نے اپنا مسئلہ حل نہیں کرنا، بعد میں آئی او نے مجھے کہانیاں سنانا شروع کردیں، مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ اکاونٹ جس میں میرے 9 کروڑ ٹرانسفر کئے گئے وہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض کا ذاتی اکاونٹ تھا۔
9 کروڑ کی بات پورے ڈیپارٹمنٹ میں پھیل چکی تھی جس کی انہوں نے فوراً ریکوری ڈال کر عدالت میں پیش کردیے اور بتایا کہ ہم نے ڈکی بھائی سے یہ پیسے برآمد کئے ہیں، میری اہلیہ کا موبائل بھی آئی او نے اپنے پاس رکھ لیا، میری اہلیہ نے وکلا سے معاملہ ڈیسکس کیا تو انہوں نے کہا ہم ’پری اریسٹ بیل‘ کروا لیں گے، جس کی خبر این سی سی آئی اے ادارے میں پہنچ گئی۔
مجھے کہا اپنے گھر والوں کو بلاو، جب میری اہلیہ اور ماں پہنچی تو سرفراز چودھری نےکہا جتوئی صاحبہ آپ اپنے آپکو کیا سمجھتی ہیں، آپ نے جو کرنا ہے کریں، ہم نئی ایف آئی آر میں آپ کو پکڑ لیں گے، اور میری فیملی کو دھمکانے لگا اور سنگین دھمکیاں دینے لگا، ہم نے 60 لاکھ روپے ادھارے لئے جو ہم نے این سی سی آئی اے کو دیے جو انہوں نے میری اہلیہ کو گرفتار نہ کرنے لئے مانگے تھے۔
این سی سی آئی اے والوں نے دوبارہ رشوت طلب کی جبکہ میری فیملی کے اکاونٹس بلاک کردیے گئے تھے، ہم لوگ مقروض ہوگئے ہیں میں نے اپنے والد جو دل کے مریض ہیں اُن کے لئے پیسے جمع کئے تھے وہ اکاونٹ بھی انہوں نے بلاک کردیا تھا۔
ڈکی بھائی نے مزید بتایا کہ ایک آدمی جس کا نام ’ big brother‘ کے طور پر انہوں نے ظاہر کیا ، اُس نے مجھے سے پوچھا آپ سے ان لوگوں نے پیسے لئے ہیں کیا؟ جس پر میں نے جواب دیا کوئی پیسے نہیں لئے۔
گرفتاری کے 23 ویں دن مجھے جوڈیشل کیا گیا اور ایک بار پھر مجھے وہی ’ big brother‘ ملا اور سوال کیا تم سے پیسے کس نے لئے؟ میں نے سب کچھ بتا دیا کہ مجھے سے 60 لاکھ روپے لئے وہ اس لئے کہ آپ کی بیوی کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ اُس کے بعد ’بگ برادر‘ نے مجھے کہا ٹھیک ہے جیل جاؤ۔
بگ برادر نے مجھے بہت تسلی دی اور پھر بتایا کہ جس ادارے کا نام لے کر آپ سے پیسے لے رہے ہیں میں اُس ادارے سے ہوں، اور بتایا کہ جب یہ بات ہمیں پتہ لگی تو ہم نے اپنے متعلقہ افسران کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا، اس لئے آپ کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔
ڈکی بھائی نے بتایا کہ مجھے چند روز بعد خبر ملی ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چودھری کو معطل کردیا گیا ہے، اہلیہ عروب جتوئی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں 8 افسران اور فرنٹ مین کو نامزد کیا گیا۔
اللہ پاک نے میری تب ہی سن لی تھی جب بگ برادر مجھے این سی سی آئی اے دفتر پہلی بار ملا تھا، میں ایف آئی اے، اینٹی کرپشن ادارے کی کارکردگی کوسراہتا ہوں جنہوں نے ہمیں انصاف دلوایا ہمارا کیس سنا۔
معروف یوٹیوبر کا کہنا تھا کہ 100 دن کی قید میں اللہ سے رو رو کر دعا کرتا رہا،میں نے 100 دنوں میں یہ سیکھا کہ آپ کے پیچھے کوئی نہیں کھڑا ہوتا، سوائے آپ کی اپنی فیملی کے"۔
اپنے ویلاگ کے آخر میں معروف یوٹیوبر نے واضح کیا کہ ’ میں پاکستان کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا‘8 سال ہوگئے ہیں مجھے یویٹوب پر آئے ہوئے اور صرف اچھا ٹائم دیکھا ہے ان سالوں میں مجھے اس ملک نے سب کچھ دیا اس ملک کے لوگوں نے مجھے پیار دیا، سپورٹ دی۔
یہ 3 ماہ کی مشکل کے بعد میں اگر میں ملک چھوڑ کر جاوں گا تو یہ میری خودغرضی ہوگی، جہاں 8 سال اس ملک نے آپ پر مشکل نہیں آنے دی تو 3 ماہ کی مشکل پر میں اس ملک کو چھوڑ کر کیسے جاسکتا ہوں؟ میں ادھر ہی ہوں، کہیں نہیں جارہا، پاکستان نے ہی مجھے سب کچھ دیا ہےپاکستان میں ہی میں رہوں گا۔