ویب ڈیسک: میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنسدانوں نے ایک انقلابی جیل تیار کیا ہے جو ہوا میں موجود نمی کو پینے کے پانی میں تبدیل کر سکتا ہے اور وہ بھی بغیر بجلی یا شمسی توانائی کے۔
یہ منفرد جیل، جو ببل ریپ جیسا دکھائی دیتا ہے، دنیا کے ان علاقوں کے لیے ایک نئی امید ہے جہاں صاف پانی کا حصول مشکل یا ناممکن ہے۔
تحقیقی جریدے نیچر واٹر میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اس ڈیوائس کو شیشے کے دو پینلز کے درمیان رکھا جاتا ہے۔ رات کے وقت یہ جیل ہوا میں موجود پانی کے بخارات کو جذب کرتا ہے، اور صبح کے وقت یہ بخارات پانی کی شکل میں گلاس کے اندر جمع ہو جاتے ہیں۔
اس عمل کی خاص بات یہ ہے کہ شیشے کی سطح کو ایک خصوصی کوٹنگ کے ذریعے اردگرد کی ہوا کے مقابلے میں زیادہ ٹھنڈا رکھا جاتا ہے، جس سے پانی جمع ہونے کا عمل قدرتی طور پر انجام پاتا ہے۔
بغیر بجلی، بغیر سورج — ہر موسم میں کام کرنے والی ٹیکنالوجی
دیگر واٹر ہارویسٹنگ سسٹمز عام طور پر بجلی یا شمسی توانائی پر انحصار کرتے ہیں، مگر ایم آئی ٹی کی یہ نئی ایجاد بغیر کسی بیرونی توانائی کے کام کرتی ہے، جس سے یہ کم خرچ، مؤثر اور ماحولیاتی لحاظ سے محفوظ بن جاتی ہے۔
انتہائی گرمی میں بھی کامیاب
اس ڈیوائس کی آزمائش امریکا کی ڈیتھ ویلی میں کی گئی — جو دنیا کے سب سے گرم مقامات میں سے ایک ہے۔ وہاں یہ جیل روزانہ ایک گلاس تک صاف پینے کا پانی فراہم کرنے میں کامیاب رہی، جسے مزید کسی پراسیسنگ کی ضرورت نہیں تھی۔
دنیا بھر میں واٹر کرائسس کا حل؟
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ڈیوائس ان علاقوں کے لیے انتہائی موزوں ہے جہاں پانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ یہ جیل چھوٹے سائز میں بنایا جا سکتا ہے، آسانی سے نصب کیا جا سکتا ہے اور اس کی دیکھ بھال بھی کم درکار ہے۔