(ویب ڈیسک) اسمارٹ فون کی بیٹری کو بار بار چارج کرنا آج تقریباً ہر صارف کی ضرورت ہے۔ فاسٹ چارجنگ کے باوجود بیشتر فونز کو مکمل چارج ہونے میں کئی منٹ سے لے کر چند گھنٹے تک لگ سکتے ہیں، جبکہ وقت کے ساتھ بیٹری کی کارکردگی بھی کم ہونے لگتی ہے۔ تاہم سائنسدانوں نے ایک ایسی نئی بیٹری تیار کی ہے جو اس مسئلے کو بڑی حد تک حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
آسٹریلیا کی فلینڈرز یونیورسٹی کے محققین کی تیار کردہ اس نئی بیٹری کو مکمل طور پر چارج ہونے میں صرف 3 منٹ لگتے ہیں، جبکہ اسے تقریباً 60 ہزار مرتبہ مکمل چارج کیا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ روایتی بیٹریوں کے مقابلے میں اس کی عمر کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
نئی بیٹری میں روایتی لیتھیم آئن ٹیکنالوجی کے بجائے زنک آئیوڈین ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔
محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ اس میں آگ لگنے کا خطرہ روایتی بیٹریوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔
موجودہ اسمارٹ فونز میں عام طور پر لیتھیم آئن بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں۔ ان بیٹریوں میں چارجنگ اور ڈسچارجنگ کے دوران لیتھیم آئنز ایک تہہ سے دوسری تہہ کی جانب حرکت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں برقی توانائی پیدا ہوتی ہے۔ اس عمل کے دوران حرارت بھی پیدا ہوتی ہے، جو وقت کے ساتھ بیٹری کی کارکردگی متاثر کرسکتی ہے۔
فلینڈرز یونیورسٹی کے ماہرین نے نئی بیٹری میں زنک اور آئیوڈین کے ساتھ ایک کم لاگت سائیکلوڈیکسٹرن پر مبنی پولیمر استعمال کیا ہے۔ سائیکلوڈیکسٹرن پہلے ہی غذاؤں، کاسمیٹکس اور ادویات سمیت مختلف شعبوں میں استعمال ہوتا ہے، تاہم محققین نے اسے بیٹری ٹیکنالوجی میں توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
اگرچہ 60 ہزار مرتبہ چارج ہونے کی صلاحیت نظری طور پر ایک انتہائی طویل بیٹری لائف کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ اسمارٹ فون میں ایسی بیٹری لگنے کے بعد فون لازماً 164 سال تک چلتا رہے گا۔ بیٹری کی مجموعی عمر کے علاوہ فون کے دیگر پرزوں اور استعمال کے عوامل بھی اہم ہوتے ہیں۔
محققین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ابھی اسمارٹ فونز میں استعمال کے لیے تیار نہیں۔ اسے مزید تحقیق، بہتری اور عملی سطح پر آزمائش کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔