ویب ڈیسک: ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دور میں 8.92 ارب روپے کے 71 ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز مبینہ طور پر سیاسی بنیادوں پر جاری کیے گئے، جبکہ ٹھیکوں کے عوض 5 سے 10 فیصد ایڈوانس کک بیکس وصول کرنے کی شکایات سامنے آئیں۔
مبینہ کک بیکس کی مد میں 50 سے 90 کروڑ روپے وصول کیے جانے کی شکایت پر حکام نے تمام 71 ترقیاتی اسکیموں کے ٹینڈرز منسوخ کر دیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ضلع خیبر میں 5 ارب روپے کے منصوبے وزیراعلیٰ کے قریبی ساتھی نوید، جبکہ 3.9 ارب روپے کے منصوبے ایم پی اے عبدالغنی سے منسوب کیے گئے۔

مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے سلسلے میں ایس ڈی او باڑہ ضیاء اللہ کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی، جبکہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایکسیئن ریاض سے بھی گزشتہ دو سال کا ریکارڈ طلب کرکے تحقیقات کی گئیں۔
تحقیقات کے دوران ایم پی اے عبدالغنی اور نوید سے منسوب دو ترقیاتی اسکیموں میں مبینہ کک بیکس کے الزامات بھی سامنے آئے۔
ذرائع کے مطابق ضلع خیبر کے ترقیاتی ٹینڈرز منسوخ کرنے کے لیے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کو گمنام درخواست موصول ہوئی تھی، جس پر 6 نومبر کو 8.92 ارب روپے کے ٹینڈرز منسوخ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
