ویب ڈیسک: خیبر پختونخوا سے عجب کرپشن کی غضب کہانیوں کا سلسلہ جاری۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے دور حکومت میں سال 2024-25ء کے دوران 18 ارب 46کروڑ روپے کی سنگین مالی خورد برد اور بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی خورد برد اور بے ضابطیگیاں خیبرپختو نخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی میں کی گئیں۔ آڈٹ رپورٹ میں کمپنی کے نظم و نسق اور بدترین انتظامی معاملات پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ناقص منصوبہ بندی، بدترین اور کمزور انتظامی معاملات کی وجہ سے خزانہ کو 18 ارب 46 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود کمپنی الاٹ شدہ صنعتی مالکان کو لیز پر دی جانے والی اراضی کی2ارب 8کروڑ 49 لاکھ روپے کی وصولی میں ناکام رہی۔ 2024ء میں لیز کیلئے نئی متعارف کردہ تجدید پالیسی کے مطابق کمرشل اراضی معاہدوں کی تجدید نہ کرانے سے خزانہ کو62 کروڑ98 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ بونیر، مہمند اور جلوزئی میں اراضی واگزار نہ کرانے سے سرکاری خزانے کو ایک ارب7کروڑ74لاکھ روپے کا ٹیکہ لگایا گیا۔ غیر قانونی طور پر کمرشل اراضی کو صنعتی اراضی کیلئے الاٹ کرکے خزانہ کو 17 کروڑ 41لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ہری پور میں الحدید انجینئرنگ کو 10ایکڑ پر مشتمل پلاٹ نمبر 185،186،187اور190الاٹ کیا گیا تاہم اس مد میں مذکورہ کمپنی سے وصولی نہ کرنے سے خزانہ کو 49 کروڑ 78لاکھ روپے کانقصان پہنچایا گیا۔ کمپنی کیلئے ممکنہ واجبات کا تخمینہ 14 ارب روپے بنتا ہے جو کمپنی کی کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ منظور نظر لوگوں کے مفادات کو فائدہ پہنچانے کے لئے کی جانے والی مالی خورد برد سے سرکاری وسائل کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔