خیبر پختونخوا کے حالات مستقل حل کے متلاشی ہیں 

خیبر پختونخوا کے حالات مستقل حل کے متلاشی ہیں 
کیپشن: خیبر پختونخوا کے حالات مستقل حل کے متلاشی ہیں 

ویب ڈیسک: آج کل سہیل آفریدی حکومت کے چل چلاؤ کی مصدقہ اور پکی خبریں ہیں کیونکہ پچھلے ایک سال سے زائد عرصے میں جتنا نقصان خیبر پختونخوا کو اس حکومت نے پہنچایا ہے اسکی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔

صوبے میں جاری دہشت گردی سے مکمل لا تعلقی بلکہ اس کے انسداد میں رخنے ڈالنا، لاء اینڈ آرڈر کا بریک ڈاؤن، زیرو گورننس، زیرو ڈویلپمنٹ، ریاستی پالیسی کے خلاف مشکوک افغان دوست پالیسی، غیر قانونی سپیکٹرم کی سر پرستی اور سب سے بڑھ کر خیبر پختونخوا کے بہادر لوگوں کو ریاست کے خلاف مسلسل ابھارنا اور وفاق سے متعلق نفرت پیدا کرنا اور شہیدوں کو مکمل ڈس اون کرنا، نا قابل معافی جرم ہیں۔ 

آج کل کچھ تجزیہ نگار ان اصل مسائل سے ہٹ کر صرف سیاسی امور کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کے شاید سہیل آفریدی کو ہٹا کر تحریک انصاف کے کسی اور چہرے کو وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے گا ۔ ایسا وہ اس لئے کہتے ہیں کیونکہ انہیں اصل بنیادی اور سنجیدہ مسئلے کا ادراک ہی نہیں ۔ اصل مسئلہ اوپر بیان کیے گئے عوامل ہیں جو اس پارٹی کے اندر سے کوئی ایک چہرہ تبدیل کرنے سے حل نہیں ہونگے ۔

اِسی لئے آئین میں دی گئی وہی آپشن زیر غور ہیں جو صوبہ خیبر پختونخوا کوعرصہ دراز سے جاری مس گورننس، کرپشن، دہشت گردی اور اس سے جڑی لعنتوں سے چھٹکارا دلا سکے۔ وہ اسٹرکچر جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی سر پرستی کرے اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ملکر اس نا سور سے ہمیشہ کے لئے خیبر پختونخوا اور اسکے عوام کی جان چھڑا سکے کیونکہ یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ یہ کام صوبے میں تحریک انصاف کے نظریے کے حامی سہیل آفریدی جیسے لوگ نہیں کر سکتے۔

Watch Live Public News