(ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا میں امن و امان کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔ اس حوالے سے آئینِ پاکستان کے تحت نفاذ کے طریقہ کار، شرائط اور قانونی راستوں کے اہم نکات سامنے آئے ہیں۔
آئینِ پاکستان میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے لیے دو بنیادی راستے ( آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234) موجود ہیں، جن کے تحت صدرِ مملکت کو نفاذ کا اختیار حاصل ہے۔
آرٹیکل 232 ( ایمرجنسی کا نفاذ):
ملکی سلامتی کو بیرونی جنگ یا اندرونی بے چینی اور انتشار کا سامنا ہونے کی صورت میں صدرِ مملکت آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا اعلان کر سکتے ہیں۔اس شق کے تحت عام حالات میں متعلقہ صوبائی اسمبلی سے ایمرجنسی کے حق میں باقاعدہ قرارداد کی منظوری لازمی ہے۔
اگر صوبائی اسمبلی کی قرارداد موجود نہ ہو، تو ایسی صورت میں پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ) کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری لینا ضروری ہوتا ہے۔
صدرِ مملکت کے ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدام کی پارلیمنٹ سے 10 دنوں کے اندر اندر منظوری حاصل کرنا لازمی آئینی شرط ہے۔
آرٹیکل 234 ( گورنر راج کا نفاذ):
اگر متعلقہ صوبے کے گورنر صدرِ مملکت کو باضابطہ رپورٹ ارسال کریں کہ صوبے کا نظم و نسق آئین کے مطابق چلانا ممکن نہیں رہا، تو اس رپورٹ کی روشنی میں گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ سے مطمئن ہونے پر صدرِ مملکت خود یا اپنے متعین کردہ کسی نمائندے (گورنر) کے سپرد صوبے کا تمام انتظام کر سکتے ہیں۔
اختیارات کی منتقلی اور مدت کی حد:
گورنر راج یا ایمرجنسی لگنے کی صورت میں صوبائی اسمبلی کے قانون سازی اور دیگر تمام اختیارات پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ) کو منتقل ہو جاتے ہیں۔
گورنر راج نافذ ہونے کے باوجود متعلقہ ہائیکورٹ کے عدالتی اختیارات پر کوئی قدغن نہیں لگے گی اور وہ بدستور برقرار رہیں گے۔
آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا نفاذ کسی بھی صوبے میں زیادہ سے زیادہ 6 ماہ کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کی پیشگی منظوری کے بعد اس میں 2، 2 ماہ کی 2 مرتبہ توسیع ممکن ہے۔
آئین کے آرٹیکل 236 کے تحت صدرِ مملکت کی جانب سے ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے جاری کردہ اعلامیے کو کسی عدالت میں قانونی طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔