(ویب ڈیسک) پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران نے یو ایم ٹی کا مطالعاتی دورہ کیا،اس نئے صوبوں اورگورننس اصلاحات پر اہم بریفنگ دی گئی۔
پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے افسران کا یو ایم ٹی کا مطالعاتی دورہ کیا۔ یو ایم ٹی کے صدر ابراہیم حسن مراد نے افسران کو نئے صوبوں، انتظامی یونٹس اور گورننس اصلاحات پر بریفنگ دی۔
سابق وزیر بلدیات ابراہم مراد کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد آبادی میں سات گنا اضافہ ہوا ہے لیکن صوبوں کی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، عالمی سطح پر اتنے بڑے وفاقی ملک کے 27 سے 51 انتظامی یونٹ ہوتے ہیں،آبادی کے لحاظ سے ہمارے صوبے کئی ممالک سے بڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب ایران اور جرمنی سے، سندھ جنوبی کوریا سے اور خیبر پختون خواہ پولینڈ سے بڑا صوبہ ہے، دور دراز اضلاع کہ انتظامی معاملات کو سینکڑوں کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومت سے چلانا عملی طور پر دشوار ہے، ہمارے صوبے این ایف سی ایوارڈ سے اپنا حصہ تو وصول کرتے ہیں لیکن اضلاع کو ان کی تقسیم منصفانہ نہیں ہوتی۔
ابراہیم مراد نے کہا کہ نیشنل ایکشن پروگرام کے تحت دہشت گردی پر قابو پانے اور امن و امان برقرار رکھنے کی زیادہ تر ذمہ داری صوبوں پر عائد ہوتی ہے،صوبے نیشنل ایکشن پلان میں عائد شدہ ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا نہیں کر سکے۔
ابراہیم مراد نے مؤثر گورننس کے لیے اختیارات مقامی سطح تک منتقل کرنے پر زور دیا۔
ابراہیم مراد نے کہا کہ پاکستان کے نوآبادیاتی انتظامی ڈھانچے میں جدید گورننس کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات ناگزیر ہیں، مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دینا آئینی تقاضا ہے، آرٹیکل 140-A مقامی حکومتوں کو اختیارات اور وسائل کی منتقلی کا تقاضا کرتا ہے۔ شہریوں کو پانی، صفائی اور سڑکوں کے مسائل کے حل کے لیے بااختیار مقامی نمائندے درکار ہیں۔
صدر ابراہیم مراد اور سول سروسز اکیڈمی کی ایڈیشنل ڈائریکٹر نازیہ جبین کے درمیان سووینئرز کا تبادلہ ہوا۔