ویب ڈیسک: خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں خاتون کی ایک تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی، جو پولیس کے مطابق لیڈی ڈاکٹر کی ہے، جسے 4 روز قبل ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کے سامنے سے اغوا کیا گیا تھا۔
ڈی پی او ایبٹ آباد ہارون رشید نے بتایا کہ 4 دسمبر کی شام ڈاکٹر وردہ کی گمشدگی کی رپورٹ ان کے والد کی جانب سے تھانہ کینٹ میں درج کرائی گئی تھی، جس میں انہوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال سے ڈیوٹی کے بعد گھر واپس نہیں آئی۔
اس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور ابتدائی تفتیش سے پتا چلا کہ ڈاکٹر وردہ کا اپنی سہیلی کے ساتھ لین دین کا تنازع تھا، سال 2023 میں ڈاکٹر وردہ نے اپنی قریبی سہیلی کے پاس 67 تولہ سونا بطور امانت رکھا تھا، جس کی واپسی پر تنازع چلا آ رہا تھا۔
ہارون رشید کے مطابق 4 دسمبر 2025 کو مقتولہ کی سہیلی سونا واپس دینے کے بہانے ڈاکٹر وردہ کو ڈی ایچ کیو سے گاڑی میں بٹھا کر رحمان اسٹریٹ جدون پلازہ میں اپنے زیرِ تعمیر گھر لے گئی، جہاں پہلے سے مبینہ طور پر 3 اغواکار موجود تھے۔ ملزمہ نے ڈاکٹر وردہ کو ان کے حوالے کیا اور خود واپس چلی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج، سی ڈی آر ریکارڈ اور تکنیکی معاونت کی بنیاد پر 35 سے زیادہ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی اور بالآخر مقتولہ کی سہیلی تک پہنچ گئی۔ ملزمہ سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
گرفتار ملزمان نے انکشاف کیاکہ ڈاکٹر وردہ کو اغوا اور قتل کرکے لڑی بنوٹہ کے جنگل میں گڑھا کھود کر دفن کیا گیا، جس کی نشاندہی پرویز نامی ملزم نے کی، واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑیاں، سونے کے لین دین سے متعلق اسٹامپ پیپر اور چیک قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق قتل کا مرکزی ملزم تاحال گرفتار نہیں ہو سکا، جس کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، افسوس ناک واقعہ کے پیش آنے پر کے پی کے میں ڈاکٹرز سراپا احتجاج ہیں اور ملزمان کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔