ویب ڈیسک : بائیڈن انتظامیہ افغانستان میں قید امریکی قیدیوں کی رہائی کے لیے گوانتانامو بے میں قید کم از کم ایک ہائی پروفائل قیدی کے تبادلے پر بات کر رہی ہے۔ تاہم افغان طالبان یا وائٹ ہاؤس نے اس بارے میں کوئی براہ راست تبصرہ نہیں کیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ سن 2022 میں پکڑے گئے تین امریکی شہریوں ریان کاربیٹ، جارج گلیزمین اور محمود حبیبی کی واپسی کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے بدلے میں وہ محمد رحیم الافغانی کو طالبان کو واپس کرنے پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق بائیڈن انتظامیہ اس معاملے پر جولائی سے ہی طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے اور تجویز پیش کی گئی ہے کہ کاربیٹ، گلیزمین اور حبیبی کے بدلے میں رحیم الافغانی کو رہا کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ افغان طالبان حبیبی کو قید میں رکھنے سے انکار کرتے ہیں، تاہم انہوں نے رحیم کے بدلے گلیزمین اور کاربٹ کے تبادلے کی پیشکش کا جواب دیا ہے۔
جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے گوانتا نامو بے میں قید ایک ہائی پروفائل قیدی کے بدلے افغان طالبان سے امریکی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق امریکی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں واشنگٹن گوانتنامو بے کے جس قیدی کو افغان طالبان کے حوالے کرنے پر غور کر رہا ہے، مبینہ طور پر ان کا تعلق القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن سے بتایا جاتا ہے۔
افغان طالبان ،وائٹ ہاؤس اور امریکی وزارت خارجہ سے جب اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے کی درخواست کی گئی تو، انہوں نے فوری طور پر اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
واضح رہے کہ اگست 2022 میں کابل پر طالبان کے قبضے کے ایک برس بعد امریکی شہریوں کاربیٹ اور حبیبی کو دو مختلف واقعات میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کے بعد گلیزمین کو بھی 2022 میں سیاح کے طور پر دورہ کرنے کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔
امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا کہ وہ وال اسٹریٹ جنرل کی اسٹوری کی تصدیق نہیں کر سکتے، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ تینوں امریکیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے "24 گھنٹے کام کر رہی ہے۔"
گیارہ ستمبر 2001 کے القاعدہ کے حملوں کے بعد قائم کی گئي امریکی ایجنسی کے پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کونیل نے کہا کہ رحیم "سی آئی اے کے اس ٹارچر پروگرام میں لایا جانے والا آخری شخص تھا" جس میں مشتبہ اسلامی عسکریت پسندوں سے پوچھ گچھ کے لیے سخت طریقے استعمال کیے جاتے تھے۔
سی آئی اے نے سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کو فراہم کردہ اپنی رپورٹ میں رحیم کو "القاعدہ کا سہولت کار" قرار دیا تھا اور کہا کہ جون 2007 میں انہیں پاکستان میں گرفتار کیا گیا اور اس کے اگلے مہینے انہیں سی آئی اے کے حوالے کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رحیم کو سی آئی اے کی ایک خفیہ "بلیک سائٹ" میں رکھا گیا تھا، جہاں انہیں سخت تفتیشی طریقوں کا نشانہ بنایا گیا، جس میں نیند کی کمی بھی شامل تھی اور پھر مارچ 2008 میں گوانتانامو بے بھیج دیا گیا۔۔
یادرہے پیر کے روز بائیڈن کی انتظامیہ نے گوانتانامو کے 11 قیدیوں کو رہا کرکے عمان بھیجا، جس سے کیوبا کے حراستی مرکز میں قیدیوں کی مجموعی آبادی پندرہ رہ گئی ہے۔