(ویب ڈیسک ) ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلابی قدم سامنے آیا ہے۔ چین کے صوبہ ہوبئی میں ایک روبوٹ الیکٹریشن نے پہلی بار 10 کے وی پاور لائن کی مرمت کامیابی سے انجام دی، جس سے انسانی الیکٹریشن کی جگہ روبوٹ نے لے لی۔
بہت سے الیکٹریشن، پلمبر اور ویلڈر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مصنوعی ذہانت( اے آئی ) اور روبوٹکس کی لہر سے محفوظ ہیں جو دنیا بھر میں ملازمتوں کو متاثر کر رہی ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کو دیکھتے ہوئے اب شاید کوئی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ اس کی ایک مثال حال ہی میں چین میں سامنے آئی، جہاں ایک روبوٹ نے 10 کے وی پاور لائن پر اہم مرمتی کام کامیابی سے انجام دیا۔
یہ روبوٹ ہوبئی الیکٹرک پاور ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور ووہان اسٹیٹ گرڈ نے تیار کیا ہے۔ یہ جدید لیزر کٹنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے جس کے ذریعے سخت انسولیشن کو ہٹایا جاتا ہے، برانچ وائر کو مین وائر کے ساتھ مضبوطی سے جوڑا جاتا ہے اور کنکشن کو انتہائی درستگی کے ساتھ ٹائٹ کیا جاتا ہے۔ اس میں نہ ہاتھ کانپتے ہیں، نہ غلطی کا خطرہ ہوتا ہے اور نہ ہی انسانی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
ووہان اسٹیٹ گرڈ کے ٹیکنیشن وو ژن کے مطابق"یہ روبوٹ انتہائی پیچیدہ وائرنگ ماحول میں بھی کام کر سکتا ہے، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ انسانوں کے کرنٹ لگنے کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے۔"
یہ انقلابی مرمتی کام ہوبئی کے چنگ شان کاؤنٹی میں انجام دیا گیا اور اسے خطرناک ماحول میں بجلی کا کام کرنے والے ورکرز کی حفاظت کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
عام طور پر الیکٹریشنز 10 کے وی پاور لائنز پر مرمت کے دوران خصوصی حفاظتی لباس پہنتے ہیں اور بجلی بند کیے بغیر کام کرتے ہیں تاکہ اردگرد کے علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔ لیکن اس دوران ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق رہتا ہے، کیونکہ ایک چھوٹی سی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
اب ووہان اسٹیٹ گرڈ کی تیار کردہ یہ روبوٹ ٹیکنالوجی ایسے خطرناک کام انجام دے سکتی ہے، جس سے انسانوں کو اپنی جان خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ہم چاہیں تو روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کو اپنی ملازمتوں کے لیے خطرہ سمجھ سکتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ہماری زندگی کو زیادہ آسان اور محفوظ بنا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے کاموں میں جو ہر سال ہزاروں انسانی جانیں لے لیتے ہیں۔