ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور اطراف میں ایران کے ساتھ کشیدگی اور جھڑپوں کے باوجود جنگ بندی برقرار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں اور معاہدہ “کسی بھی دن” طے پا سکتا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ایران نے امریکی بحری جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، تاہم امریکی بحریہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو ایسے حملوں سے گریز کرنا چاہیے تھا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی سابقہ قیادت ختم ہو چکی ہے جبکہ موجودہ نظام بھی تقریباً غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ ان کے بقول امریکا اب “تیسری رجیم” کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک “شاندار ملک” ہے، جبکہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کو بھی انہوں نے قابل تعریف شخصیات قرار دیا۔
اس سے قبل ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بیان میں کہا تھا کہ امریکی بحریہ کے تین ڈسٹرائر آبنائے ہرمز عبور کر گئے، جنہیں ایران کی جانب سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم تمام جہاز محفوظ رہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے جزیرہ قشم اور بندرگاہ بندر عباس پر کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج نے “بلا اشتعال حملے” کے جواب میں دفاعی کارروائی کی۔
سینٹ کام کے مطابق ایرانی افواج نے امریکی بحری جہازوں پر میزائل، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے حملے کیے، تاہم امریکی بحریہ کا کوئی جہاز یا اثاثہ متاثر نہیں ہوا۔ امریکی فوج کے مطابق جوابی کارروائی میں ایران کی میزائل اور ڈرون لانچنگ تنصیبات، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، اور انٹیلی جنس و سرویلنس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا خطے میں کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتا، تاہم امریکی افواج کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستعد ہے۔